مسیحی انفاس — Page 292
رہتا ہے۔اور یہ دوا طاعون کے لئے بھی مفید ہے۔اور ہر قسم کے پھوڑے پھنسی کو اس سے فائدہ ہوتا ہے یہ معلوم نہیں کہ یہ دوا صلیب کے زخموں کے بعد خود ہی حضرت علی علیہ السلام نے الہام کے ذریعہ سے تجویز فرمائی تھی یا کسی طبیب کے مشورہ سے طیار کی گئی تھی۔اس میں بعض دوائیں اکسیر کی طرح ہیں۔خاص کر مر جس کا ذکر توریت میں بھی آیا ہے۔بہر حال اس دوا کے استعمال سے حضرت مسیح علیہ السلام کے زخم چند روز میں ہی اچھے ہو گئے۔اور اس قدر طاقت آگئی کہ آپ تین روز میں فلم سے جلیل کی طرف ستر کوس تک پیادہ پاگئے۔پس اس دوا کی تعریف میں اس قدر کافی ہے کہ مسیح تو اوروں کو اچھا کرتا تھا مگر اس دوا نے میسج کو اچھا کیا۔اور جن طب کی کتابوں میں یہ نسخہ لکھا گیا۔وہ ہزار کتاب سے بھی زیادہ ہیں۔سینکی فہرست لکھنے سے بہت طول ہوگا۔اور چونکہ یہ نسخہ یونانی طبیبوں میں بہت مشہور ہے اس لئے میں کچھ ضرورت نہیں دیکھتا کہ تمام کتابوں کے نام آجگہ لکھوں محض چند کتا ہیں جو اس جگہ موجود ہیں ذیل میں لکھ دیتا ہوں۔فهرست آن طبی کتابوں کی جین میں مرہم علی کا ذکر ہو اور ی بھی ذکر ہو کہ وہ مرہم حضرت علی کیلئے لینے انکے بدن کے زخموں کے لئے بنائی گئی تھی قانون شیخ الرئیس بوعلی سینا جلد ثالث صفحه ای را شرح قانون علامه قطب الدین شیرازی جلد ثالث كامل الصناعة تصنيف على بن العباس المجوسی جار دوهم صفحه ۲۰۲ کتاب مجموعه بقائی مصنفہ محمود محمد المنجیل مخاطب از خاقان بخطاب بدر محمد بقا خان جلد صفحه ۲۹۷ - كتاب تذكرة الوالالباب مصنفہ شیخ داود العضریر انطاکی صفحه ۳ ۳۰۔قرابا دین رومی مصنفہ قریب زمانہ حضرت مسیح جس کا ترجمہ ماموں رشید کے وقت میں عربی میں ۲۹۲