مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 289 of 632

مسیحی انفاس — Page 289

۲۸۹ امتصور ہیں۔اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسیح کی عمر ایک سو چپ شکیل برس کی ہوئی ہے۔اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت سیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ سی نہیں وہ دونوں جمع نہیں ہوئیں۔(۱) ایک یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی یعنے ایک سوچی میں برس زندہ رہے۔(۲) دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی۔اس لئے نبی ستیاں کہلائے۔اب ظاہر ہے کہ اگر وہ صرف تینتیس برس کی عمر میں آسمان کی طرف اُٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سوچی برس کی روایت صحیح نہیں ٹھہر سکتی تھی اور نہ اس چھوٹی سی عمر میں تینتیس برس میں سیاحت کر سکتے تھے۔اور یہ روائتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ العمال جو احادیث کی ایک جامع کتاب ہے اسکے صفحہ ہم مہم میں ابو ہریرہ سے یہ حدیث لکھی ہو۔اوحی اللہ تعالى إلى عيسى ان يأ عيسى انتقل من مكان الى مكان لثلا تعريف فتوذى ینے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اسے عیسی ایک مکان سے دوسے مکان کی طرف نقل کرتارہ بینے ایک ایسے دوسرے ملک کی طرف جا تاکہ کوئی تجھے پہچان کر دکھ نہ ہے۔اور پھر اسی کتاب میں جابر سے روایت کر کے یہ حدیث لکھی ہے۔كان عيسى ابن مريم يسيح فاذا أمسى اكل بقل الصحراء ويشرب الماء القراح ینے حضرت عیسی علیہ السلام ہمیشہ سیاحت کیا کرتے تھے اور ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف سیر کرتے تھے اور جہاں شام پڑتی تھی تو جنگل کے بقولات میں سے کچھ کھاتے تھے اور خالص پانی پیتے تھے۔اور پھر اسی کتاب میں عبداللہ بن عمر سو روایت ہے جس کے یہ لفظ ہیں۔قال احب شىء الى الله الغرباء قيل اى شى الغرباء ۲۲۵ جلد دوم - جلد دوم ماه