مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 632

مسیحی انفاس — Page 12

پڑا۔پھر جس غرض کے لئے خود کشی اختیار کی گئی وہ غرض بھی تو پوری نہ ہوئی۔غرض تو یہ تھی کہ یسوع کو ماننے والے گناہ اور دنیا پرستی اور دنیا کے لالچوں سے باز آجائیں مگر نتیجہ بر عکس ہوا۔اس خود کشی سے پہلے تو کسی قدر یسوع کے ماننے والے رو بخدا بھی تھے مگر بعد اس کے جیسے جیسے خود کشی اور کفارہ کے عقیدہ پر زور دیا گیا اس قدر دنیا پرستی اور دنیا کے لالچ اور دنیا کی خواہش اور شراب خواری اور قمار بازی اور بد نظری اور ناجائز تعلقات عیسائی قوم میں بڑھ گئے کہ جیسے ایک خونخوار اور تیزرو دریا پر جو ایک بند لگایا گیا تھا وہ بند یک دفعہ ٹوٹ جائے اور اردگرد کے تمام دیہات اور زمین کو تباہ کر دے۔یہ بھی یادر ہے کہ صرف گناہ سے پاک ہونا انسان کے لئے کمال نہیں۔ہزاروں کیڑے مکوڑے اور چرند پرند ہیں کہ کوئی گناہ نہیں کرتے۔پس کیا ان کی نسبت ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تک پہنچ گئے ہیں۔پس سوال یہ ہے کہ مسیح نے روحانی کمالات کے حاصل کرنے کے لئے کونسا کفارہ دیا ؟ انسان خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کا محتاج ہے۔اول بدی سے پر ہیز کرنا۔دوم نیکی کے اعمال کو حاصل کرنا۔اور محض بدی کو چھوڑنا کوئی ہنر نہیں ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے یہ دونوں قوتیں اسکی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ایک طرف تو جذبات نفسانی اس کو گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں اور دوسری طرف محبت الہی کی آگ جو اس کی فطرت کے اندر مخفی ہے وہ اس گناہ کے خس و خاشاک کو اس طرح پر جلا دیتی ہے جیسا کہ ظاہری آگ ظاہری خس و خاشاک کو جلاتی ہے۔مگر اس روحانی آگ کا افروختہ ہونا جو گناہوں کو جلاتی ہے معرفت الہی پر موقوف ہے کیونکہ ہر ایک چیز کی محبت اور عشق اسکی معرفت سے وابستہ ہے۔جس چیز کے حسن اور خوبی کا تمہیں علم نہیں تم اس پر عاشق نہیں ہو سکتے۔پس خدائے عزوجل کی خوبی اور حسن و جمال کی معرفت اسکی محبت یدا کرتی ہے اور محبت کی آگ سے گناہ جلتے ہیں مگر سنت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ وہ معرفت عام لوگوں کو نبیوں کی معرفت ملتی ہے اور انکی روشنی سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو دیا گیا وہ ان کی پیروی سے سب کچھ پالیتے ہیں۔مگر افسوس کہ عیسائی مذہب میں معرفت الہی کا دروازہ بند ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہم کلامی پر مہر لگ گئی ہے اور آسمانی نشانوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔پھر تازہ بتازہ معرفت کس ذریعہ سے حاصل ہو۔صرف قصوں کو زبان سے چاٹو۔ایسے مذہب کو ایک عقلمند کیا کرے جس کا خدا ہی کمزور اور عاجز ہے اور جس کا سارا مدار قضتوں اور کہانیوں پر ہے۔حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۹ تا ۶۲ ۱۲