مسیحی انفاس — Page 11
دیتی ہے۔نشانات کا یہ حال کہ ایمانداروں کے نشان کا پایا جانا بھی مشکل ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۱۲۳، ۱۲۴ میں اس تپش محبت سے خالی نہ تھا جو خدائے عزوجل سے ہونی چاھئے اور اس تپش محبت کی وجہ سے میں ہر گز کسی ایسے مذہب پر راضی نہیں ہوا جس کے عقائد خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت کے بر خلاف تھے یا کسی قسم کی توہین کو مستلزم تھے۔یہی وجہ ہے کہ عیسائی مذہب مجھے پسند نہ آیا کیونکہ اس کے ہر قدم میں خدائے عزو جل کی توہین ہے۔ایک عاجز انسان جو اپنے نفس کی بھی مدد نہ کر سکا اس کو خدا ٹھہرایا گیا۔اور اس کو خلق السماوات والارض سمجھا گیا۔دنیا کی بادشاہت جو آج ہے اور کل نابود ہو سکتی ہے اس کے ساتھ ذلت جمع نہیں ہو سکتی۔پھر خدا کی حقیقی بادشاہی کے ساتھ اتنی ذلتیں کیوں جمع ہو گئیں کہ وہ قید میں ڈالا گیا۔اس کو کوڑے لگے اور اس کے منہ پر تھو کا گیا۔اور آخر بقول عیسائیوں کے ایک لعنتی موت اس کے حصہ میں آئی جس کے بغیر وہ اپنے بندوں کو نجات نہیں دے سکتا تھا۔کیا ایسے کمزور خدا پر کچھ بھروسہ ہو سکتا ہے۔اور کیا خدا بھی ایک فانی انسان کی طرح مر جاتا ہے۔اور پھر صرف جان نہیں بلکہ اس کی عصمت اور اس کی ماں کی عصمت پر بھی یہودیوں نے ناپاک ہمتیں لگا ئیں اور کچھ بھی اس خدا سے پر لگائیں نہ ہوسکا کہ زبر دست طاقتیں دکھلا کر اپنی برتیت ظاہر کرتا۔پس ایسے خدا کا ملنا عقل تجویز نہیں کر سکتی۔جو خود مصیبت زدہ ہونے کی حالت میں مرگیا اور یہودیوں کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکا۔اور یہ کہنا کہ اس نے عمدا اپنے تئیں صلیب پر چڑھایا تا اس کی امت کے گناہ بخشے جائیں اس سے زیادہ کوئی بے ہودہ خیال نہیں ہو گا۔جس شخص نے تمام رات جان بچانے کے لئے رورو کر ایک باغ میں دعا کی اور وہ بھی منظور نہ ہوئی اور پھر گھبراہٹ اس قدر غالب آئی کہ صلیب پر چڑھنے کے وقت ایلی ایلی لما سبقتنی کہ کر اپنے خدا کو خدا کر کے پکارا اور اس شدت بیقراری میں باپ کہنا بھی بھول گیا۔کیا اس کی نسبت کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے جان دی۔عیسائیوں کے اس متناقض بیان کو کون سمجھ سکتا ہے کہ ایک طرف تو یسوع کو خدا ٹھہرایا جاتا ہے پھر وہی خدا کسی اور خدا کے آگے رو رو کر دعا کرتا ہے۔جبکہ تینوں خدا یسوع کے اندر موجود تھے اور وہ ان سب کا مجموعہ تھا تو پھر اس نے کس کے آمنے رو رو کر دعا کی۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک ان تین خداؤں کے علاوہ کوئی اور بھی زبر دست خدا ہے جو ان سے الگ اور ان پر حکمران ہے جس کے آگے متینوں خداؤں کو رونا