مسیحی انفاس — Page 277
پر باقی نہیں رہیں۔اور خود جس حالت میں بہت سی اور بھی کتابیں انجیل کے نام سے تالیف کی گئیں۔تو ہمارے پاس کوئی پختہ دلیل اس بات پہ نہیں کہ کیوں اُن دوسری کتابوں کے سب کے سب مضمون رہ گئے جائیں اور کیوں ان انجیلوں کا نگل لکھا ہوا ملان لیا جائے۔ہم خیال نہیں کر سکتے کہ کبھی دوسری انجیلوں میں اس قدر بے اصل مبالغات لکھے گئے ہیں جیسا کہ ان چار انجیلوں میں عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو ان کتابوں میں میسیج کا پاک اور بے داغ چال چلن مانا جاتا ہے اور دوسری طرف اسپر ایسے الزام لگائے جاتے ہیں جو کسی راستباز کی شان کے ہرگز مناسب نہیں ہیں مثلاً اسرائیلی نبیوں نے یوں تو توریت کے منشاء کے موافق ایک ہی وقت میں ضد ہا بیویوں کو رکھانا پاکوں کی نسل کثرت سے پیدا ہو۔مگر آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ کسی نبی نے اپنی بے قیدی کا یہ نمونہ دکھلایا کہ ایک نا پاک بدکردار عورت اور شہر کی مشہور فاسقہ اسکے بدن سے اپنے ہاتھ لگائے اور اسکے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ملے اور اپنے بال اسکے پاؤں پر لے اور وہ یہ سب کچھ ایک جوان ناپاک خیال عورت سے ہونے دے اور منع نہ کرے۔اس جگہ صرف نیک خلفی کی برکت سے انسان ان اور عام سے بچ سکتا ہے جو طبعاً ایسے نظارہ کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔لیکن بہر حال یہ نمونہ دوسروں کے لئے اچھا نہیں۔غرض ان انجیلوں میں بہت سی باتیں ایسی بھری پڑی ہیں کہ وہ بتلا رہی ہیں کہ یہ انجیلیں اپنی اصلی حالت پر قائم نہیں رہیں ان کے بنانیوالے کوئی اور یں حواری اور ا نکے شاگرد نہیں ہیں۔مثلاً انجیل متی کا یہ قول یہ اور یہ بات آجتک یہودیوں میں مشہور ہے" کیا اس کا لکھنے والا متی کو قرار دینا صحیح اور مناسب ہو سکتا ہے ؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اس انجیل متی کا لکھنے والا کوئی اور شخص ہے جومستی کی وفات کے بعد گذرا ہے۔پھر اسی انجیل متی بات آیت ۱۴و۱۳ میں ہے " تب انہوں نے لینے یہودیوں نے بزرگوں کے ساتھ اکٹھے ہو کر ملاح کی اور ان پہرہ والوں کو بہت رویے دیئے اور کہا تم کہو کہ رات کو جب ہم سوتے تھے۔اسکے شاگر دینے مسیح کے شاگرا کر اس پر کئے گئے یہ دیکھو کیسی کچی او نا معقول باتیں ہیں۔اگر اس سے مطلب یہ ہے کہ یہودی اس بات کو پوشیدہ کرنا چاہتے تھے کہ یسوع مردوں