مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 632

مسیحی انفاس — Page 278

میں گھی اٹھا ہے اس لئے انہوں نے پہرہ والوں کو رشوت دی تھی کہ تا عظیم الشان معجزه اُن کی قوم میں مشہور نہ ہو۔تو یوں یسوع نے جس کا یہ فرض تھا کہ اپنے اس معجزہ کی یہودیوں میں اشاعت کرتا۔اس کو مخفی رکھا بلکہ دوسروں کو بھی اسکے ظاہر کرنے سے منع کیا۔اگر یہ کہو کہ اس کو پکڑے جانے کا خوف تھا تو میں کہتا ہوں کہ جب ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی تقدیر پر وارد ہو چکی اور وہ مرکر پھر لالی جس کے ساتھ زندہ ہوچکا تو اب اسکو یہودیوں کا کیاخوت تھا کیونکہ اب یہودی کی طرح اسپر قدرت نہیں پاسکتے تھے۔اب تو وہ فانی زندگی سے ترقی پا چکا تھا۔افسوس کہ ایک طرف تو اس کا جلالی جسم سے زندہ ہونا اور سواریوں کو ملنا اور جلیل کی طرفت جانا اور پھر آسمان پر اٹھائے جانا بیان کیا گیا ہے اور پھر بات بات میں اس جلالی جسم کے ساتھ بھی بیڑیوں کا خوف ہے اُس ملک سے پوشیدہ طور پر بھاگتا ہو کہ تاکوئی یہودی دیکھ نہ لے اور جان بچانے کے لئے ستر کوس کا سفر جلیل کی طرف کرتا ہو۔بار بار منع کرتا ہے کہ یہ واقعہ کسی کے پاس بیان نہ کرو کیا یہ جلال جسم کے پچھن اور علامتیں ہیں ؟ نہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی جلالی اور نیا جسم نہ تھا وہی زخم آلودہ جسم تھا جو جان نکلنے سے بچایا گیا۔اور چونکہ یہودیوں کا پھر بھی اندیشہ تھا اس لئے برعایت ظاہر اسباب مسیح نے اس ملک کو چھوڑ دیا اسکے مخالف جنقدر باتیں بیان کی جاتی ہیں وہ سب کی سب بیہودہ اور تمام خیال ہیں کہ پہرہ داروں کو یہودیوں نے رشوت دی کہ تم یہ گواہی دو کہ تواری لاش کو چرا کر لے گئے اور ہم سوتے تھے۔اگر وہ سوتے تھے تو ان پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ تم کو سونے کی حالت میں کیونکر معلوم ہوگیا کہ یشوع کی لاش کو پوری اٹھا لے گئے۔اور کیا معرف اتنی بات سے کہ یشوع قبر میں نہیں کوئی عقلمند سمجھ سکتا تھا کہ وہ آسمان پر چلا گیا ہے کیا پر دنیا میں اور اسباب نہیں جن سے قبریں خالی رہ جاتی ہیں ؟ اس بات کا بار ثبوت تو میسج کے ذمہ تھا کہ وہ آسمان پر جانے کے وقت دو تین سو یہودیوں کو ملتا اور پہلا طوس سے بھی طاقات کرنا جلال جسم کے ساتھ اس کو کس کا خوف تھا مگر اس نے یہ طریق اختیار نہیں ۲۷۸