مسیحی انفاس — Page 276
پر فوت نہیں ہوئے تھے اور ان جسم کے تمام اور انکے ساتھ تھے اور کوئی نئی تبد یلی اُن میں پیدا نہیں ہوئی تھی اور آسمان پر چڑھنے کی کوئی عینی شہادت انجیل سے نہیں ملتی اور اگر ایسی شہادت ہوتی بھی تب بھی لائق اعتبار نہ تھی کیونکہ نبیل نویسوں کی یہ عادت معلوم ہوتی ہے کہ وہ بات کا بتنگڑ بنالیتے ہیں اور ایک ذرہ سی بات پر حاشیے چڑھاتے چڑھاتے ایک پہاڑ اس کو کر دیتے ہیں مثلا کسی انہیں نویں کے منہ سے نکل گیا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔اب دوسرا انجیل نویس اس فکر میں پڑتا ہے کہ اس کو پورا خدا بنادے اور تیسرا تمام زمین آسمان کے اختیار اسکو دیتا ہے اور چوتھا ونشتگان کہ دیتا ہے کہ وہی ہے جو کچھ ہے اور کوئی دوسرا خدا نہیں۔غرض اس طرح پر کھینچے کھینچتے کہیں کا نہیں لیجاتے ہیں۔دیکھو وہ رویا جس میں نظر آیا تھا کہ گویا مردے قبروں میں سے اُٹھ کر شہر میں چلے گئے۔اب ظاہری معنوں پر زور دیکر یہ بتایا گیا کہ حقیقت میں مردے قبروں میں سے باہر نکل آئے تھے اور پر شیلم شہر میں آکر اور لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔اس جگہ غور کرو کہ کیسے ایک پر کا کوا بنایا گیا۔پھر وہ ایک کوا نہ رہا بلکہ لاکھوں کوے اُڑائے گئے۔جس جگہ مبالغہ کا ہر پیال ہو اُس جگہ حقیقتوں کا کیو نکر پتہ لگے۔غور کے لائق ہے کہ ان انجیلوں میں جو خدا کی کتابیں کہلاتی ہیں ایسے ایسے مبالغات بھی لکھے گئے کہ مسیح نے وہ کام کئے کہ اگر وہ سب کے سب لکھے جاتے تو وہ کہتا ہیں جن میں وہ لکھے جاتے دنیا میں نہ سماسکتیں۔کیا اتنا مبالغہ طریق دیانت و امانت ہے۔کیا یہ سچ نہیں ہو کہ گرمی کے کام ایسے ہی خیر محدود اور حد بندی سے باہر تھے تو تین برس کی حد میں کیونکر آگئے۔ان انجیلوں میں یہ بھی خرابی ہو کہ بعض پہلی کتابوں کے حوالے غلط بھی دیئے ہیں۔شجرہ نسب سی کو بھی صحیح طور پر لکھ نہ سکے۔انجیلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کی عقل کچھ موٹی تھی یہانتک کہ بعض حضرت مسیح کو بھوت سمجھ بیٹھے اور ان انجیلوں پر قدیم سے یہ بھی الزام چلا آتا ہے کہ وہ اپنی صحت کوئی بیان نہیں کرتا کہیں اس بات کا گواہ ہوںاور میری آنکھوں نے دیکھا ہو کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے تھے۔منعم