مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 632

مسیحی انفاس — Page 269

۲۶۹ اور خدا اُن سے بیزار ہے اور بیزاری اور دشمنی کی نظر سے اُن کو دیکھتا ہے اور وہ کا ذب اور مفتری اور نعوذ باللہ کا فرادر ملحد ہیں اور خدا کی طرف سے نہیں ہیں۔سو یہ افراط اور تفریط ایسا ظلم سے بھرا ہوا طریق تھا کہ ضرور تھا کہ خدای تعالی اپنے سچے نبی کو ان ان الزاموں سے برسی کرتا۔سو انجیل کی آیت مذکورہ بالا کا اسی بات کی طرف اشارہ ہے اور یہ جو کہا کہ زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔یہ اس بات کی طرف ایما ئی گئی ہے کہ وہ تمام فرقے جن پر قوم کا لفظ اطلاق پاسکتا ہے اُس روز چھاتی پیٹیں گی اور تجزع فزع کرینگی اور ان کا نام سخت ہوگا۔اس جگہ عیسائیوں کو ذرہ توجہ سے اس آیت کو پڑھنا چاہئیے اور سوچنا چاہیئے کہ جبکہ اس آیت میں کل قوموں کے چھاتی پیٹنے کے بارے میں پیش گوئی کی گئی ہے تو اس صورت میں عیسائی اس ماتم سے کیونکر با رہ سکتے ہیں۔کیا وہ تو نہیں ہیں۔اور جبکہ وہ بھی اس آیت کے رو سے چھاتی پیٹنے والوں میں داخل ہیں۔تو پھر وہ کیوں اپنی نجات کا فکر نہیں کرتے۔اس آیت میں صاف طور پر بتلا یا گیا ہو کہ جب مسیح کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا تو زمین پر بھی قومیں ہیں وہ چھاتی پیٹیں گی سوالی انص میسج کو جھٹلاتا ہے جو کہتا ہے کہ ہماری قوم چھاتی نہیں بیٹے گی۔بھی وہ لوگ چھاتی پیٹنے کی پیشگوئی کا مصداق نہیں ٹھہر سکتے جنکی جماعت ابھی تھوڑی ہے اور اس لائق نہیں ہے جو اسکو قوم کہا جائے۔اور وہ ہمارا فرقہ ہے بلکہ یہی ایک فرقہ ہے جو پیشگوئی کے اثر اور دلالت سے باہر ہے کیونکہ اس فرقہ کے ابھی چند آدمی ہیں جو کسی طرح قوم کا لفظ مٹی پر صادق نہیں آسکتا میسج نے خدا سے ابہام پاکر بتلایا کہ جب آسمان پر ایک نشان ظاہر ہوگا تو زمین کے کل وہ گروہ جو بباعث اپنی کثرت کے قوم کہلانے کے متفق ہیں چھاتی پیٹیں گے اور کوئی ن میں سے بات نہیں رہیگا گرو ہی کم تعداد لوگ جن پر قوم کا لفظ صادق نہیں آسکتا۔اس پیش گوئی کے مصداق سے نہ عیسائی باہر ہوسکتے ہیں اور نہ اس زمانہ کے مسلمان اور نہ یہودی اورنہ کوئی اور مہذب۔صرف ہماری یہ جماعت ہے کیونکہ ابھی دانے انکو تم کی طرح لایا ہے