مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 632

مسیحی انفاس — Page 270

نبی کا کلام کسی طورسے جھوٹا نہیں ہوسکتا، جبکہ کلام میں صاف یہ اشارہ ہو کہ ہر ایک قوم جو زمین پر سے چھاتی پیٹے گی تو ان قوموں میں سے کونسی قوم باہر رہ سکتی ہے۔بیج نے تو اس آیت میں کسی قوم کا استثنا نہیں کیا۔ہاں وہ جماعت بہر صورت مستثنی ہو جو بھی قوم کے اندازہ تک نہیں پہنچی یعنے ہماری جماعت۔اور یہ پیش گوئی اس زمانہ میں نہایت صفائی سے پوری ہوئی کیونکہ وہ ہنچائی جو حضرت مسیح کی نسبت اب پوری ہوئی ہے وہ بلاشبہ ان تمام قوموں کے ماتم کا موجب ہے کیونکہ اس سے سب کی غلطی ظاہر ہوتی ہے اور سب کی پردہ دری ظہور میں آتی ہے۔عیسائیوں کے خدا بنانے کا شور و غوغا حسرت کی آنہوں سے بدل جاتا ہے مسلمانوں کا دن رات کا ضد کرنا کہ مسے آسان پر زندہ گیا آسمان پر زندہ گیا رونے اور ماتم کے رنگ میں آجاتا ہے اور یہودیوں کا تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اور اس جگہ یہ بھی بیان کردینے کے لائق ہو کہ آیت مذکورہ بالا میں جو لکھا ہو کہ اسوقت زمین کی ساری قومیں چھاتی پیٹیں گی۔اسجگہ زمین سے مراد بلاد شام کی زمین ہے جس سے یہ تینوں قومیں تعلق رکھتی ہیں۔یہودی اسلئے کہ وہی انکا مبداء اور منبع ہو اور اسی جگہ اُن کا معبد ہے۔عیسائی اسلئے کہ حضرت مسیح اسی جگہ ہوئے ہیں اور عیسائی مذہب کی پہلی قوم اسی ملک میں پیدا ہوئی ہے مسلمان اس لئے کہ وہ اس زمین کے قیامت تک وارث ہیں۔اور اگر زمین کے لفظ کے معنے ہریک نہیں لی جائے بھی کچھ نہیں کیونکہ حقی لکھنے پرمر کے نام ہوگا مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۳۸ تا اسم ور جملہ ان شہادتوں کے جو نبیل سے ہم کوئی ہیں جیل متی کی وہ بار ہے، جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔اور قبریں کھل گئیں اور بہت لمیں پاک لوگوں کی تو امام میں تھیں تھی اور اسکے اٹھنے کےبعد دینے میسج کے اٹھنے کے بعد قبروں میں سے نکل کر اور مقدس شہرمیں جاکر بہتوں کو نظر آئیں۔دیکھو انجیل متی با با آیت ۵۲ - اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ قصہ جوانجیل میں بیان کیا گیا ہے کہ سینے کے اٹھنے کے بعد پاک لوگ قبروں میں سے باہر نکل آئے اور زندہ ہو کر بہتوں کو نظر آئے یہ کسی تاریخی