مسیحی انفاس — Page 268
اُس وقت انسان کے بیٹے کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا۔اور اُس وقت زمین کی ساری قو میں چھاتی پیٹیں گی اور انسان کے بیٹے کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گے ؟ دیکھو متی باب ۲۴ آیت ۳۰۔اس آیت کا اصل مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ ایسا آئنے والا ہے کہ جبکہ آسمان سے ینے محض خدا کی قدرت سے ایسے علوم اور دلائل اور شہادتیں پیدا ہو جائینگی کہ جو آپ کی الوہیت یا صلیب پر فوت ہونے اور آسمان پر جانے اور دوبارہ آنے کے عقیدہ کا بابل ہونا ثابت کر دینگی۔اور جو قومیں آپ کے نبی صادق ہونے کی منکر تھیں بلکہ صلیب دیئے جانے کی وجہ سے انکو لعنتی سمجھتی تھیں جیسا کہ یہود اُن کے جھوٹ پر بھی آسمان گواہی دیگا۔کیونکہ یہ حقیقت بخوبی کھل جائیگی کہ وہ مصلوب نہیں ہوئے اسے لے لعنتی بھی نہیں ہوئے۔تب زمین کی تمام قومیں جنہوں نے اُنکے حق میں افراط یا تفریط کی تھی ماتم کرینگی اور پی علی کی ہو جیسے سخت ندامت اور خجالت اُنکے شامل حال ہوگی۔اور اسی زمانہ میں جبکہ حقیقت کھل جائیگی لوگ روحانی طور پریس کو زمین پر نازل ہوتے دیکھیں گے۔یعنی انہی دنوں میں مسیح موعود یو اُن کی قوت اور طبیعت میں ہو کر آئیگا۔آسمانی تائید سے اور اسی قدرت اور جلال سے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے اُس کے شامل ہو گی اپنے چکتے ہوئے ثبوت کے ساتھ ظاہر ہو گا اور پہچانا جائے گا۔اس آیت کی تشریح یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قضا و قدر سے حضرت عیسی علیہ السلام کا ایسا وجود ہے اور ایسے واقعات ہیں جو بعض قوموں نے ان کی نسبت افراط کیا ہے اور بعض نے تفریط کی راہ لی ہے۔یعنے ایک وہ قوم ہے کہ جو انسانی لوازم سے اُن کو دُور تر لے گئی ہے۔یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں کہ اب تک وہ قوت نہیں ہوئے اور آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں۔اور ان سے بڑھ کر وہ قوم ہے جو کہتے ہیں کہ صلیب پر فوت ہو کر اور پھر دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر پہلے گئے ہیں اور خدائی کے تمام اختیار انکو مل گئے ہیں بلکہ وہ خود خدا ہیں۔اور دوسری قوم یہودی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر مارے گئے اس لئے نعوذ باللہ وہ ہمیشہ کے لئے لعنتی ہوئے اور ہمیشہ کیلئے مور د غضب۔۲۶۸