مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 632

مسیحی انفاس — Page 262

خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے شگردوں کو تعلیم دی تھی کہ اگر دعا کروگے تو قبول کی جائیگی بلکہ ایک مثال کے طور پر ایک قاضی کی کہانی بھی بیان کی تھی کہ جو نہ خلقت سے اور نہ خدا سے ڈرتا تھا۔اور اس کہانی سے بھی مدعا یہ تھا کہ تا حواریوں کو یقین آجائے کہ بے شک خدائے تعالیٰ دعا سنتا ہے۔اور اگر چہ مسیح کو اپنے پر ایک بڑی مصیبت کے آنے کا خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم تھا۔نگر مسیح نے عارفوں کی طرح اس بنا پر دعا کی کہ خدائے تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور ہر ایک محوبہ اثبات اس کے اختیار میں ہے۔لہذا یہ واقعہ کہ نعوذ باللہ مسیح کی خود دعا قبول نہ ہوئی۔یہ ایک ایسا امر ہے جو شاگردوں پر نہایت بداثر پیدا کرنے والا تھا۔سوکیونگ ممکن تھا کہ ایسا نمونہ ہو ایمان کو ضائع کرنے والا تھا۔حواریوں کو دیا جاتا جبکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ مسیح جیسے بزرگ نبی کی تمام رات کی پر سوز دعا قبول نہ ہو سکی تو اس بد نمونہ سے اُن کا ایمان ایک سخت امتحان میں پڑتا تھا۔لہذا خدائے تعالیٰ کی رحمت کا تقاضا یہی تھا کہ اس دعا کو قبول کرتا یقینا مجھو کہ وہ دعا جو تین نام مقام میں کی گئی تھی ضرور قبول ہوگئی تھی۔ایک اور بات اس جگہ یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسا کہ مسیح کے قتل کے لئے مشورہ ہوا تھا اور اس غرض کے لئے قوم کے بزرگ اور معزز مولوی قیافا نامی سردار کاہن کے گھر میں اکٹھے ہوئے تھے کہ کسی طرح مسیح کو قتل کر دیں۔یہی مشورہ حضرت موسیٰ کے قتل کرنے کے لئے ہوا تھا۔اور یہی مشورہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے لئے مکہ میں دارالندوہ کے مقام میں ہوا تھا۔مگر قا در خدا نے ان دونوں بزرگ نبیوں کو اس مشورہ کے بداثر سے بچالیا۔اور سیح کے لئے جو مشورہ ہوا ان دونوں مشوروں کے درمیان میں ہے۔پھر کیا وجہ کہ وہ بچ یا نہ گیا۔حالانکہ اس نے ان دونوں بزرگ نبیوں سے بہت زیادہ د عالی۔اور پھر جبکہ خدا اپنے پیارے بندوں کی ضرور سنتا ہے اور شریروں کے منشورہ کو باطل کر کے دکھاتا ہے۔تو پھر کیا وجہ کہ مسیح کی دُعا نہیں سنی گئی۔ہر ایک صادق کا تجربہ ہے که بیقراری اور مظلومانہ حالت کی دعا قبول ہوتی ہے۔بلکہ صادق کے لئے مصیبت کا ۲۶۲