مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 632

مسیحی انفاس — Page 261

۲۶۱ تھی۔بہر حال پیلاطوس رومی کی کوشش سے مسیح ابن مریم کی جان بچ گئی اور جان بچنے کے لئے پہلے سے مسیح کی دعا منظور ہو چکی تھی۔دیکھو عبرانیاں باب ۵ آیتے۔بعد اس کے اس زمین سے مسیح پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں فوت ہوا۔اور تم سن چکے ہو کہ سری نگر محلہ خانیار میں اس کی قبر ہے۔یہ سب پیلاطوس کی سعی کا نتیجہ تھا۔کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۵۷ : ۵۸ اور جملہ ان شہادتوں کے جو حضرت سی علیہ السلام کے صلہ ہے محفوظ رہنے کے بارے میں ہمیں انجیل سے ملتی ہیں وہ شہادت ہے جو انجیل متی باب میں لینے آیت ۳۶ سے آیت ۴۶ تک مرقوم ہے جس میں بیان کیا گیا ہو کہ حضرت سیح علیہ السلام گرفتار کئے جانے کا الہام پاکر تمام رات جناب الہی میں رو رو کر اور سجدے کرتے ہوئے دُعا کرتے رہے۔اور ضرور تھا کہ ایسی تفریح کی دُعا جس کے لئے مسیح کو بہت لمبا وقت دیا گیا تھا قبول کی جاتی کیونکہ مقبول کا سوال جو بیقراری کے وقت کا سوال ہو۔ہر گز رو نہیں ہوتا۔پھر کیوں سیج کی ساری رات کی دُعا اور دردمند دل کی دعا اور مظلومانہ حالت کی دُعارہ ہوگئی۔حالانکہ مسیح دعوی کرتا ہے کہ باپ جو آسمان پر ہے میری سنتا ہے۔پس کیونکہ باور کیا جائے کہ خدا اسکی سنتا تھا جبکہ ایسی بیقراری کی دعاشنی نہ گئی۔اور انجیل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ولی یقین تھا کہ اس کی وہ دعا ضرور قبول ہو گئی اور اس دُعا پر اس کو بہت بھروسہ تھا۔اسی وجہ سے جب وہ پکڑا گیا اور صلیب پر کھینچا گیا اور ظاہری علامات کو اس نے اپنی امید کے موافق نہ پایا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا کہ ایلی ریلی لما سبقتانی اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔لینے مجھے یہ امید ہر گز نہیں تھی کہ میرا انجام یہ ہوگا اور میں صلیب پر مروں گا۔اور میں یقین رکھتا تھا کہ تو میری دعائنے گا۔پس ان دونوں مقامات انجیل سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح کو خود ولی یقین تھا کہ میری دعا ضرور قبول ہوگی ور میرا تمام رات کا دور وکر دعا کرنا ضائع نہیں جائے گا۔اور خود اس نے