مسیحی انفاس — Page 10
دیکھ لو کہ وہ ایسے اعتقاد سے سخت بیزار اور اس کو سخت کفر اور شرک قرار دیتے ہیں اور اس بات کے ہر گز منتظر نہیں ہیں کہ کسی وقت خدا انسانی جسم میں جنم لے گا۔ یا یہ عقیدہ تثلیث بر حق ہے بلکہ وہ صاف کہتے ہیں کہ ایسے عقائد رکھنے والا کافر ہے اور ہر گز نجات نہیں پائیگا۔ حالانکہ یہود وہ لوگ ہیں جن کے درمیان برابر نبی آتے رہے۔ یہ بالکل قرین قیاس نہیں کہ یہود با وجود مسلسل تعلیم انبیاء کے سرے سے خدا سے منکر ہو جاتے جس کے پیدا ہونے کی کسی پیش گوئی میں ان کو امید دی جاتی۔ ہاں ممکن تھا کہ اس جسمانی خدا کا مصداق حضرت مسیح کو نہ ٹھہراتے۔ مگر یہ تو کہتے کہ وہ جسمانی خدا کوئی اور ہے جو بعد میں آئیگا ۔ ہم نے اس زمانہ کے بہت سے فاضل یہودیوں سے دریافت کیا۔ انہوں نے یہ جواب لکھا ہے کہ کبھی کسی نبی نے یہودیوں کو ایسے جسمانی خدا کے ظاہر ہونے کی امید نہیں دلائی ۔ اور ایسا اعتقاد صریح شرک اور کفر اور توریت کی تعلیم کے مخالف ہے۔ ان فاضل یہودیوں کے خطوط ہمارے پاس موجود ہیں۔ اگر یہ کہو کہ یہودی تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منکر ہیں۔ تو پھر ایسے یہودیوں کی گواہی کا کیا اعتبار ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہودی اصل پیش گوئی کے منکر نہیں ہیں اور اس بات کو مانتے ہیں کہ جیسا کہ توریت میں خبر دی گئی ہے ہے۔ مثیل موسیٰ ضرور آنے والا ہے۔ ہاں یہودیوں کے ان موجودہ دو فرقوں نے جو یہودیوں کے باراں فرقوں میں سے باقی رہ م گئے ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کم فہمی اور تعصب سے میل موسیٰ نہیں مانا۔ مگر اصل ☆ پیش گوئی سے انکار تو نہیں کیا لیکن ایسی پیش گوئی کے وجود سے تو قطعا منکر ہیں جو کسی خدا کے آنے کی نسبت کی گئی ہو۔ ماسوا اس کے یہودیوں کے دس فرقے اسلام میں داخل ہو چکے ہیں تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۱، ۱۶۲ ہر سچا ذہب اور ستا عقیدہ ان تین نشانوں یعنی نصوص، عقل اور تائید سمادی سے شناخت کیا جاتا ہے اور عیسائی مذہب اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ یہودیوں کی کتابوں میں اس تثلیث اور کفارہ کا کوئی پتہ نہیں اور کبھی وہ بیٹے خدا کے منتظر ہی نہ تھے۔ اور عقل دور سے دھکے ہے ہم اپنی کتاب مسیح ہندوستان میں بڑے بڑے انگریز محققوں کے اقرار سے ثابت کر چکے ہیں کہ یہودیوں کے دس گم شدہ فرقے افغان اور کشمیری ہیں جو مسلمان ہو گئے اور پھر توریت کے وعدہ کے موافق ان میں سے اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ ہوئے۔ منہ ۱۰