مسیحی انفاس — Page 260
اس تاریکی میں سبت کی رات آجائے۔لہذا یح اور چوروں کو جلد صلیب پر سے اتار لیا گیا۔اور سپاہیوں نے یہ چالاکی کی کہ پہلے چوروں کی ٹانگوں کو توڑنا شروع کر دیا۔اور ایک نے ان میں سے یہ مکر کیا کہ مسیح کی نبض دیکھ کر کہہ دیا کہ یہ تو مر چکا ہے۔اب اس کی ٹانگیں توڑنے کی ضرورت نہیں۔اور پھر یوسف نام ایک تاجر نے ایک بڑے کو ٹھے میں ان کو رکھ دیا۔اور وہ کوٹھا ایک باغ میں تھا۔اور یہودی مردوں کے لئے ایسے وسیع کو ٹھے کھڑکی دار بھی بنایا کرتے تھے۔غرض حضرت مسیح اس طرح بچ گئے۔اور پھر چالیس دن تک مرہم عیسی سے ان کے زخموں کا علاج ہوتا رہا۔اور پھر جب خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے حضرت مسیح علیہ السّلام کو مرہم عیسی کے استعمال سے شفا ہو گئی اور تمام صلیبی زخم اچھے ہو گئے تواللہ تعالی کے حکم سے اس ملک سے انہوں نے پوشیدہ طور پر ہجرت کی جیسا کہ سنت انبیاء ہے۔اور اس ہجرت میں ایک یہ بھی حکمت تھی کہ تا خدا تعالیٰ کے پاک نیتوں کی سنت ادا ہو جائے۔کیونکہ اب تک وہ اپنے وطن کی چار دیواری میں ہی پھرتے تھے۔اور ہجرت کی تلخی نہیں اٹھائی تھی۔اور اس سے پہلے انہوں نے اپنی ہجرت کی طرف اشارہ بھی کیا تھا جیسا کہ انجیل میں ان کا یہ قول ہے کہ ”نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔الغرض پھر آپ پیلاطوس کے ملک سے گلیل کی طرف پوشیدہ طور پر آئے۔اور اپنے حواریوں کو کلیل کی سڑک پر ملے۔اور ایک گلوں میں ان کے ساتھ اکٹھے رات رہے۔اور اکٹھے کھانا کھایا۔تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۴۲ تا ۲۴۴ یز دیکھیں۔ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۹۴ تا ۲۹۷ پیلاطوس اپنے اس قول پر قائم نہ رہ سکا۔اور جب اس کو کہا گیا کہ قیصر کے پاس تیری شکلیت کریں گے تو وہ ڈر گیا اور حضرت مسیح کو اس نے عمداً خوشخوار یہودیوں کے حوالہ کر دیا۔گو وہ اس سپردگی سے غمگین تھا اور اس کی عورت بھی غمگین تھی کیونکہ وہ دونوں مسیح کے سخت معتقد تھے۔لیکن یہودیوں کا سخت شور و غوغا دیکھ کر بزدلی اس پر غالب آگئی۔ہاں البتہ پوشیدہ طور پر اس نے بہت سعی کی کہ مسیح کی جان کو صلیب سے بچایا جاوے۔اور اس سٹی میں وہ کامیاب بھی ہو گیا۔مگر بعد اس کے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا گیا۔اور شدت درد سے ایک ایسی سخت غشی میں آگیا کہ گویاوہ موت ہی ۲۶۰