مسیحی انفاس — Page 252
گھنٹہ ہوا تو ایک ایسی آندھی آئی جس سے ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا اور وہ اندھیرا تین گھنٹے برابر رہا۔دیکھو مرقس باب ۱۵ - آیت ۳۳۔یہ چھٹا گھنٹہ بارہ بجے کے بعد تھا یعنے وہ وقت جو شام کے قریب ہوتا ہے۔اب یہودیوں کو اس شدت اندھیرے ہیں یہ فکر پڑی کہ مبادا اسیت کی رات آجائے اور وہ سبت کے مجرم ہو کر تاوان کے لائق ٹھہریں۔اس لئے اُنہوں نے بجلدی سے میسج کو اور اُسکے ساتھ کے دو چوٹیوں کو بھی صلیب پر سے اتار لیا۔اور اس کے ساتھ ایک اور آسمانی سبب یہ پیدا ہوا کہ جب پلا طوس کچھری کی مسند پر بیٹھا تھا اسکی جو رونے اُسے کہلا بھیجا کہ تو اس راستباز سے کچھ کام نہ لکھ (یعنے اس کے قتل کرنے کے لئے سعی نہ کر ) کیونکہ میں نے آج رات خواب میں اسکے سبب سے بہت تکلیف پائی۔دیکھو متی بائیکہ آیت 19۔سو یہ فرشتہ جونو اب میں پلانٹس کی جورو کو دکھایا گیا۔اس سے ہم اور ہر ایک منصف یقینی طور پر یہ مجھے گا کہ خدا کا ہرگز یہ منشار نہ تھا کہ مسیح صلیب پر وفات پاوے جیسے کہ دنیا پیدا ہوئی آجتک یہ بھی نہا کہ جس شخص کے بچانے کے لئے خدائیتعالی رویا میں کسی کو ترغیب دے کہ ایسا کرنا چاہیئے تو وہ بات خطا جائے۔مثلاً انجیل متی میں لکھا ہے کہ خداوند کے ایک فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دے کے کہا اٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور وہاں جب تک میں تجھے خبر نہ دوں ٹھہرارہ کیونکہ ہیرو دوس اس لیڈی کے کو ڈھونڈ لگا کہ ہمارڈالئے“ دیکھو انجیل متی بابت آیت ۱۳۔اب کیا یہ کہ سکتے ہیںکہ یسوع کا مصری پہنچ کر ا ا ا ا سکی تھا۔اسی طرح مخدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک تدبیر تھی کہ پیلاطوس کی بوردو کو مسیح کے لئے خواب آئی۔اور مکن نہ تھا کہ یہ تدبیر خط جاتی۔اور میں طرح مصر کے قصہ میں مسیح کے مارے جانے کا اندیشہ ایک ایسا خیال ہے جو خدائے تعالیٰ کے ایک مقرر شدہ وعدہ کے برخلاف ہے۔اسی طرح اس جگہ بھی یہ خلاف قیاس بات ہے کہ خدائے تعالیٰ کا فرشتہ پلا طوس کی جورو کو نظر آوے اور وہ اس ہدایت کی طرف اشارہ کرے کہ اگر میسیج صلیب پر فوت ہو گیا۔تو یہ تمہارے لئے اچھا نہ ہو گا تو پھر اس غرض سے ذشتہ کا ظاہر ہونا بے سود و جاوے اور ۲۵۲