مسیحی انفاس — Page 245
۲۴۵ چالاکی سے کوشش بھی کی کہ ان شکوک کو مٹاوے مگر وہ اور بھی بڑہتے گئے۔چنانچہ پولس نے بعض خطوط سے صاف ظاہر ہوتا ہے مسیح صلیب پر سے اتارا گیا تو اس کے زندہ ہونے پر ایک اور پختہ ثبوت یہ پیدا ہو گیا کہ اس کی پہلی کے چھیدنے سے فی الفور اس میں سے خون رواں ہوا۔یہودی اپنی شتاب کاری کی وجہ سے اور عیسائی انجیل کی رو نداد موجودہ کے لحاظ سے اس شک میں شریک ہیں۔اور کوئی عیسائی ایسا نہیں جو انجیل پر غور کرے اور پھر یقینی طور پر یہ اعتقاد رکھے کہ سچ سچ مسیح صلیب کے ذریعہ فوت ہو گیا بلکہ ان کے دل آج تک شک میں پڑے ہوئے ہیں اور جس کفارہ کو وہ لئے پھرتے ہیں اس کی ایسے ریگ کے تودہ پر بناء ہے جس کو انجیل کے بیانات نے ہی برباد کر دیا ہے۔ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۹۷ ٢١ جانتا چاہیے کہ اگر چہ عیسائیوں کا یہ اعتقاد ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ہو ا ا کر لوٹی کی شرارت سے گرفتار ہو کر مصلوب ہو گئے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے لیکن انجیل شریف صلیب سے نجات کے پر غور کرنے سے یہ اعتقاد سراسر باطل ثابت ہوتا ہے منی با آیت۔ہم میں لکھا ہے کہ بلدہ نہیں ایک جامع جیسا کہ یونس تین رات دن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسا ہی ابن آدم تین رات دن زمین کے اندہ رہے گا۔اب ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا۔اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بیہوشی اور ششی تھی۔اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس خدا کے فضل سے مجھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا۔اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔پھر اگر حضرت میں علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں مرگئے تھے تو مردہ کو زندہ سے کیا مشابہت اور زندہ کو مردہ سے کیا مناسبت ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح ایک نبی صادق تھا اور جانتا تھا کہ وہ خدا جس کا وہ پیارا تھا لعنتی موت سے اس کو بچائے گا۔اس لئے اس نے خدا سے الہام پا کر پیشگوئی کے طور پر یہ مثال بیان کی تھی۔اور اس مشکل میں جس نے دیا تھا کہ وہ صلیب پر نہ مرے گا۔اور نہ محنت کی لکڑی پراسس کی ے کا تب کی غلطی سے پہلے ایڈیشن میں مچھلی لکھا گیا ہے۔اصل میں زمین ہے۔شمس ) بیان