مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 632

مسیحی انفاس — Page 246

جان نکلے گی۔بلکہ یونس نبی کی طرح صرف خوشی کی حالت ہوگئی۔اور مسیح نے اس مثال میں یہ بھی اشارہ کیا تھا کہ وہ زمین کے پیٹ سے نکل کر پھر قوم سے ملے گا۔ار یونس کسی قوم میں عزت پائیگا سو یہ پیشنگوئی بھی پوری ہوئی۔کیونکہ مسیح زمین کے پیٹ میں سے نکل کر اپنی ان قوموں کی طرف گیا جو کشمیر اور تبت وغیرہ مشرقی ممالک میں سکونت رکھتی تھیں یعنی بنی اسرائیل کے وہ دنی فرقے جن کو شالمندر شاہ اسور سامر یہ سے سیج سے سات سو اکیس برس پیشتر مسیر کرکے لے گیا۔آخر وہ ہندوستان کیطرف آکر اس ملک کے منتطرق مقامات میں سکونت پذیر ہوگئے تھے او ضرور تھاکہ سی اس سفر کو اختیار کرتا کیونکہ خدا تعالی کی رو سے یہی اسکی نبوت کی علت غائی تھی کہ وہ ان گمشدہ یہودیوں کو ملتا ہو ہندوستان کے مختلف مقامات میں سکونت پذیر ہو گئے تھے۔وجہ یہ کہ درحقیقت وہی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں جنہوں نے ان ملکوں میں آکر اپنے باپ دادے کا مذہب بھی ترک کردیا تھا اور اکثر انکے بدھ مذہب میں داخل ہوگئے تھے۔اور پھر رفتہ رفتہ بت پرستی تیک وبت پہنچی تھی۔چنانچہ ڈاکٹر برنر نے بھی اپنی کتاب وقائع سیر و سیاحت میں کئی اہل علم کے والد سے بیان کیا ہے کہ کشمیر کے باشندے در اصل یہودی ہیں کہ جو فرقہ شاہ اسور کے ایام میں اس ملک میں آگئے تھے؟ بہر حال حضرت سیح علیہ السلام کیئے یہ ضرور تھاکہ ان گمشدہ بھیڑوں کو تلاش کرتے جو اس ملک ہند میں اگر دوسری قوموں میں مخلوط ہوگئی تھیں۔چنانچہ آگے چل کر ہم اس بات کا ثبوت دینگے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فی الواقع اس ملک ہند میں آئے اور پھر منزل منزل کشمیر یں پہنچے اور اسرائیل کی گشدہ بھیڑوں کا بدھ مذہب میں پتہ لگا لیا۔اور انہوں نے آخر اسکو اسی طرح قبول کیا جیسا کہ اونس کی قوم نے یونس کوقبول کیا تھا۔اورضرور تھا کہ ایساہوتا کیونکی انجیل میں اپنی زبان سے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ماسوا اس کے صلیب کی موت سے نجات پانا اسکو اسلئے بھی ضروری تھا کہ مقدس کتاب یں لکھا ہے کہ جو کوئی کاٹھ پر لٹکایا گیا سولعنتی ہے۔اور لعنت کا ایک ایسا مفہوم ہے کہ و عیسی اور انکے سوا اور مہوری بھی بابلی حوادث سے مشرقی بلاو کی طرف جلا وطن ہوئے۔منہ ا دیکھو جلد دوم واقعات سیر و سیاحت ڈاکٹر بر نیر فرانسیسی ۲۴۶