مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 632

مسیحی انفاس — Page 234

بالقلب المغتبط، سترون بيضاء وصفراء، كحليلة جميلة زهراء، وأوافيكم كالمبشرين المستبشرين۔، فذهب وتركهم مغبونين۔فما فهموا أنه غرّ وطلب المغر، وفرحوا بتصور حصول المراد، ولبثوا يرقبونه رقبة أهلة الأعياد وينتظرونه انتظار أهل الوداد متنافسين، إلى أن تلبسته الشمس كالمتندمين ،نقابها، وسوّدت كالمحزونين ثيابها، وألغت كالمخذولين حسابها واختفت بوجه مصفر كالمنهوبين۔فلما طال أمد الانتظار، وتجاوز الوقت من موعد المكار، وأضاعوا في رقبة الزمان، وبان أن الرجل قد مان نهضوا كالمجانين وسعوا إلى كل طرف مفتشين ، 6 وعدوا إلى اليمين واليسار مرتدعين بتصور الحلي الكبار، وفكر هتك الأستار۔فلما استيئسوا منه كالثكلى سقطوا كالموتى، وأكبوا على وجوههم باكين، وعرفوا أنهم قد خُدِعوا ، بل جدعوا ، ومن القوم قدعوا فضربوا على خدودهم قائلين : يا ويلنا إنا كنا منهوبين مخدوعين۔ثم ألقوا على رؤوسهم غبار الصحراء۔وصعدت صرخهم إلى السماء، وجمعوا الناس حولهم من شدة الجزع والفزع والبكاء، کے ایسے جلوہ کو دیکھو گے جیسے کہ ایک خوبصورت عورت سامنے آجاتی ہے۔سو اس نے یہ کہا اور چلا گیا اور ان کو ٹوٹے میں چھوڑ گیا۔سوانہوں نے نہ سمجھا کہ دھوکا دے گیا اور بھاگ گیا اور مراد ملنے کے تصور میں وہ خوش ہوئے اور اسی جگہ ٹھہر کر ایسے طور سے اس کی انتظار کرتے رہے جیسا کہ عید کے چاند کی انتظار کی جاتی ہے اور جیسا کہ دوست دوست کا منتظر ہوتا ہے یہاں تک کہ سورج نے شرمندوں کی طرح اپنا منہ چھپالیا اور ماتم زدہ اور سخت غمناک لوگوں کی طرح سیاہ کپڑے پہن لئے اور اپنے وجود کو دہو کا کھانے والوں کے مال کی طرح حساب سے نظر انداز کر دیا اور منہ زرد کے ساتھ ایسا چھپا جیسا کہ وہ لوگ زرد رنگ ہو جاتے ہیں جن کے مال لوٹے جاتے ہیں پس جبکہ انتظار کا زمانہ لمبا ہو گیا اور اس مکار کے وعدہ سے وقت بڑھ گیا اور جبکہ بہت سا وقت انہوں نے انتظار میں ضائع کیا اور کھل گیا کہ وہ آدمی تو جھوٹ بول گیا تو سودائیوں کی طرح اٹھے اور ہر یک طرف تلاش کرتے ہوئے دوڑے اور دائیں بائیں طرف دوڑتے ہوئے گئے اور بڑے زیوروں کا خیال کیا اور پردہ دری کا بھی فکر تھا پس جبکہ اس کے ملنے سے زن و فرزند مردہ کی طرح تو امید ہو گئے تو روتے ہوئے اپنے مونہوں پر گرے اور سمجھ گئے کہ ہمیں دھو کا دیا گیا بلکہ ہمارا ناک کاٹا گیا اور قوم سے ہم ہٹائے گئے تب انہوں نے اپنی گالوں پر یہ کہتے ہوئے طمانچے مارے، ہم پر واویلا ہم تو لوٹے گئے دھوکا دئے گئے پھر انہوں نے اپنے سروں پر جنگل کا گھٹا ڈال لیا اور ان کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی تب قوم ان کے پاس دوڑتی ہوئی آئی اور انہوں نے اس بلا ۲۳۴