مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 632

مسیحی انفاس — Page 235

۲۳۵ فجاءهم القوم مهرعين۔فسألوا عن بلاء نزل، وجرح ابتزل، وعن مصيبة مذيبة للقلوب وداهية مهيجة للكروب، واستقروا من تفاصيل المصيبة وكيفية القصة۔فعافوا أن يبينوا خوفا من طعن الناس والخزي بين العوام والخواص، ومع ذلك كانوا صارخين۔فقال القوم : مالكم لا ترقى دمعكم ، ولا تسكن زفرتكم ! أظلمتم من قوم عادين؟ لم تسترون الحقيقة، وتزيدون الكربة؟ ألا ترون إلى لوعة كرب المحبين فصاحوا صيحة المغبون، واستحيوا من إظهار الكمد المكنون۔ثم بينوا القصة وأبدوا الغُصة وما كادوا أن يبينوا ولكن عجزوا عن إصرار المصرين۔فلامهم كل أحد من العقلاء، ومطرت من كل جهة سهام العذلاء، فنكسوا رؤوسهم متندمين۔وقال المعيرون : يا معشر الحمقاء وائمة الجهلاء، ألستم علمتم أنه جاءكم فقير بادي الخذلان وعليه بُردان رثان كالعثان ، فمن كان في امطار كيف يهبكم رياش أفخار، وينجيكم من أسر أوطار أما رأيتم عليه أثر الإفلاس۔فكيف شغفتم به ؟ أكنتم أنعاما أو من الناس۔ثم كانت هذه الخرافات سے جو نازل ہوئی اور اس زخم سے جس کا شگوفہ نکلا اور اس مصیبت سے جس نے دلوں کو گلایا اور اس حادثہ سے جس نے بے قراری پیدا کی دریافت کیا اور مصیبت کی تفصیل دریافت کی اور اس قصہ کی کیفیت پوچھی سو انہوں نے بیان کرنے سے دل چرایا کیونکہ وہ لوگوں کے لعن طعن اور خاص و عام میں رسوا ہونے سے ڈرے مگر باوجود اس کے فریاد کر رہے تھے۔پس قوم نے کہا کیا سبب کہ تمہارے آنسو نہیں تھمتے اور تمہاری چینیں کم نہیں ہوتیں کیا تم پر کسی ظالم نے ظلم کیا کیوں تم حقیقت کو چھپاتے اور اپنے دوستوں کی بے قراری کو زیادہ کرتے ہو۔پس انہوں نے پھر ایک شیخ ماری جو ایک زباں رسیدہ مارتا ہے اور چھپے ہوئے غم کے ظاہر کرنے سے شرم کی پھر قصہ کو کھول دیا اور غصہ ظاہر کر دیا اور نہیں چاہتے تھے کہ ظاہر کریں لیکن اصرار کرنے والوں کے اصرار سے عاجز آگئے۔پس ہر یک عظمند نے ان کو ملامت کی اور ملامت کرنے والوں کے ہر یک طرف سے تیر بر سے۔پس انہوں نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لئے اور ملامت کرنے والوں نے کہا کہ اے احمقو اور جاہلوں کے پیشواو ! کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ ایک محتاج تمہارے پاس آیا جس کی بے عزتی کھلی کھلی تھی اور اس پر پرانی چادر میں دھوئیں کی طرح تھی سو جو شخص آپ ہی پرانی چادر میں رکھتا تھا وہ تمہیں لباس فاخرہ کہاں سے دیتا اور کیونکر تمہاری حاجت روائی کرتا کیا تم نے افلاس کے آثار اس میں نہیں پائے تھے پھر کیوں تم اس کے فریفتہ ہو گئے کیا تم چار پائے تھے یا ادمی تھے۔پھر قطع نظر اس سے یہ باتیں بھی از