مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 632

مسیحی انفاس — Page 233

۲۳۳ أنه الجاني، ضاهى في هذه العادة بالاقنوم الثاني، وجعلهم كالمسيح من المتفردين۔ثم شمّر ذيله ليطير كالعقاب، فغدا بإزعام، الذهاب ولا اغتداء الغراب، وقال لهم : عند القرار يا سادات الأمطار وصناديد الديار، سآتيكم إلى نصف النهار، فانتظروني قليلاً من الانتظار، ولا تأخذكم شيء من الاضطرار ؛ فإن الرقية طويلة ، والبغية جليلة، والطبيعة عليلة والمسافة بعيدة والبرودة شديدة، وما كنت ان أشق على نفسي في هذا الضعف والنحافة، وما أجد في بدني قوة قطع المسافة۔وأني نبذت علق الدنيا كلها، وتركت كثرها وقلها، وما يسرني إلا ذكر المسيح رب العلمين (لعنة الله على الكاذبين)۔ولكني كلفت نفسي لكم بما رأيتكم من قبائل الشرفاء، ووجدتكم كأطلال الأمراء في الضراء بعد النعماء، بما تحققت المصافاة وانعقدت المودات، فهاجت رحمتي، وماجت شفقتي، وجذبني بختكم المحمود، ونجمكم المسعود فأردت أن أجعلكم كالسلاطين، وسأرجع إليكم مع الجنى الملتقط، فانتظروا سے مشابہ ہے۔یعنی جیسے اقنوم عثمانی نے حضرت عیسی سے پہلے کسی اور سے تعلق نہیں کیا نہ بعد میں کرے گا ایسا ہی اس نے اس قوم سے تعلق پیدا کیا اور کہا کہ میں نے اقنوم ثانی کی طرح ہو کر تمہیں مسیح کی طرح اپنے تعلق سے خاص کر دیا ہے۔پھر اس نے اپنا دامن اکٹھا کیا تا کہ عقاب کی طرح اڑ جائے پس اس نے چلے جانے کی نیت سے صبح کی ایسی صبح جو کبھی کوے نے بھی نہ کی ہو اور بھاگنے کے وقت ان کو کہنے لگا کہ اے شہروں کے سردار و اور ولایتوں کے رئیسو ! میں میں دوپہر تک تمہارے پاس آوں گاسو تم کچھ تھوڑی سی میری انتظار کرنا اور تمہیں کچھ بے قراری نہ ہو کیونکہ منتر بہت لمبا ہے اور مطلب بہت بڑا ہے اور مراد بہت بڑی ہے اور طبیعت بیمار ہے اور دور جاتا ہے اور سردی بہت پڑتی ہے اور میرا دل نہیں چاہتا کہ اس ضعف اور پیرانہ سالی میں یہ مشقت اپنے پر اٹھالوں اور میرے بدن میں یہ قوت بھی نہیں کہ اتنی دور جاسکوں اور میں دنیا کے تمام علاقے چھوڑ بیٹھا ہوں اور مجھے بجز اس کے کچھ اچھا کھائی نہیں دیتا جو مسیح کا ذکر کرتا رہوں جو رب العالمین ہے۔مگر میں نے تمہارے لئے یہ کلفت اٹھائی کیونکہ میں نے شریف قبیلوں میں سے تمہیں پایا اور میں نے دیکھا کہ تم امیروں کے باقیماندہ نشان اور بعد نعمت کے سختی میں پڑے ہو اور اس لئے بھی کہ ہم میں بہت پیار ہو گیا ہے اور دوستانہ ربط ہو چکا ہے۔سو میری رحمت اور شفقت تمہارے لئے اٹھی اور موجزن ہوئی اور تمہارے طالع محمود اور نیک ستارہ نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا سو میں نے چاہا کہ تمہیں بادشاہ کی طرح بنا دوں اور میں عنقریب تازہ چنا ہوا میوہ لے کر تمہارے پاس آوں گا سوارزومند دل کے ساتھ میرے منتظر رہو عنقریب تم سونے اور چاندی