مسیحی انفاس — Page 232
وقد وجب إخفاءها من الأغيار، ومن أشراط هذه الرقية قراءتها في الزاوية على شاطئ الوادي عند نهر جار في البادية، وكذلك علمت من المعلمين۔فهل تأذنوني أن أفعل كذا ، وأرجع إليكم بذهب كأمثال الربا، لترجعوا إلى شركائكم بمال ما رأته عين الناظرين، وسترون قناطير مقنطرة من الذهب الخالص والمال المليح، ولا ترون نظيره في التنجية إلا كفارة المسيح۔ويكفي لدينكم الكفارة، ولدنياكم هذه الأمارة، فنجوتم في الدارين من تحريك اليدين ومن جهد الجاهدين قالوا: الأمر إليك، والقلب لديك، وإنك اليوم لدينا مكين أمين۔قال : طوبى لكم، ستفتح عليكم أبواب المسرة، وتُعطى لكم مفاتيح الدولة، بل أعلمكم رقيتي لكيلا تضطربون عند غيبتى ، ولكي تكون لكم دولة عظمى ، وملك لا يبلى۔قالوا : لا نستطيع إحصاء شكرك ، وأنك أكبر المحسنين۔قال : جير ما علمت أحدا هذا العمل من قبلكم ، ولا أعلم بعدكم قومًا آخرين۔فسألوا عنه هذا التخصيص وحكمة تحديد هذا التبصيص فأقسم بالاقنوم الذي يجير سر شرطوں میں سے ہے جو اس کو گوشہ خلوت میں پڑہیں کسی جنگل کے کنارہ پر اس جنگل میں جہاں نہر بھی جاری ہو اور اسی طرح مجھے استادوں نے سکھلایا ہے۔اب کیا آپ لوگ اجازت دیتے ہیں کہ میں ایسا ہی کروں اور ٹیلوں کی طرح مال لے کر واپس آؤں تا تم وہ مال لے کر اپنے شریکوں کے پاس جلو جو کسی آنکھ نے نہ دیکھا ہو اور عنقریب تم ڈھیروں کے ڈھیر سونا اور خوبصورت مال دیکھو گے۔اور بجز کفارہ مسیح کے نجات دینے میں اس کی کوئی نظیر نہیں پاو گے۔تمہارے دین کے لئے تو کفارہ مسیح کافی ہے اور تمہاری دنیا کے لئے یہ امیری مکتفی ہے۔سو تم دونوں جہانوں میں محنت اور کوشش کرنے سے آزاد ہو گئے۔انہوں نے عرض کیا کہ ہم تیرے حکم کے تابع ہیں اور ہمارے دل تیرے پاس ہیں اور آج تو ہماری نظر میں بامرتبہ اور امین آدمی ہے۔کہا شاباش عنقریب تم پر خوشی کے دروازے کھلیں گے اور تمہیں دولت کی کنجیاں دی جائیں گی بلکہ میں تمہیں یہ منتر بھی سکھلا دوں گا۔تا میری عدم حاضری میں تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے اور تا تمہیں ایک ایسی دولت ملے جو بہت بزرگ دولت ہے اور ایک ایسا ملک ملے جس کا انتہاء نہیں انہوں نے کہا کہ ہم تیرا شکر نہیں کر سکتے تو سب احسان کرنے والوں سے بزر گتر ہے اس نے جواب دیا کہ تم یقینا سمجھو کہ یہ عمل میں نے تم سے پہلے کسی کو نہیں سکھایا اور نہ بعد تمہارے کسی کو سکھلوں گا۔پس انہوں نے اس تخصیص کا بھید اس سے دریافت کیا اور اس چمک کے محدود رکھنے کی حکمت پوچھی پس اس نے اس اقنوم کی قسم کھائی جو گناہگار کو گناہ سے خلاصی بخشتا ہے کہ وہ اس عادت میں اقنوم ثانی ۲۳۲