مسیحی انفاس — Page 226
E ۲۲۶ عیسائیوں کا فدیہ خدا کے قانون قدرت سے کس قدر دور پڑا ہوا ہے۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۷۷ جس فدیہ کو وہ پیش کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کے مخالف ہے۔کیونکہ الہی قانون پر غور کر کے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ اونی، اعلی پر قربان کیا اونی اعلیٰ پر قربان کیا گیا ہے۔مثلاً انسان اشرف المخلوقات اور باتفاق تمام جاتا ہے۔۔۔عقلمندوں کے تمام حیوانات سے اعلیٰ ہے۔سو اس کی صحت اور بقا اور پائیداری اور نیز اس کے نظام تمرین کے لئے تمام حیوانات ایک قربانی کا حکم رکھتے ہیں۔پانی کے کیڑوں سے لے کر شہد کی مکھیوں اور ریشم کے کیڑوں اور تمام حیوانات بکری گائے وغیرہ تک جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہ سب انسانی زندگی کے خادم اور نوع انسان کی راہ میں فدیہ معلوم ہوتے ہیں۔ایک ہمارے بدن کی پھنسی کے لئے بسا اوقات سوجوک جان دیتی ہے تاہم اس پھنسی سے نجات پاویں۔ہر روز کروڑہا بکری اور بیل اور مچھلیاں وغیرہ ہمارے لئے اپنی جان دیتی ہیں۔تب ہماری بقاء صحت کے مناسب حال غذا میسر ہوتی ہے۔پس اس تمام سلسلہ پر نظر ڈال کر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اعلیٰ کے لئے ادنی کو فدیہ مقرر کیا ہے۔لیکن اعلیٰ کا ادنی کے لئے قربان ہونا اس کی نظیر خدا کے قانون قدرت میں ہمیں نہیں ملتی۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۹۵ ۹۶ عیسویت کے ابطال کے واسطے تو ایک دانا آدمی کے لئے یہی کافی ہے کہ ان کے اس اگر خدا کی روح نہیں ما را اما این عقیدہ پر نظر کرے کہ خدا مر گیا ہے۔بھلا کوئی سوچے کہ خدا بھی مراکرتا ہے۔اگر یہ باطل ہے کہیں کہ خدا کی روح نہیں بلکہ جسم مرا تھا تو کفارہ باطل ہو جاتا ہے۔بلکہ جسم تھا تو کفارہ ملفوظات۔جلد ۵ صفحه ۲۹۲ عیسائی کفارہ پر اس قدر زور دیتے ہیں حلانکہ یہ بالکل لغوبات ہے۔ان کے اعتقاد کفارہ کے لئے خدا کو کے موافق مسیح کی انسانیت قربان ہو گئی مگر صفت خدائی زندہ رہی۔اب اس پر یہ اعتراض قربان ہونا چاہئے تھانہ کہ مسیح کی انسانیت کو ہوتا ہے کہ وہ جو دنیا کے لئے فدا ہوا وہ تو ایک انسان تھا خدا نہ تھا۔حالانکہ کفارہ کے لئے