مسیحی انفاس — Page 225
۲۲۵ جیسے اور انسان ہیں۔اور خدا تعالیٰ وہی علاقہ عام طور کا اس سے رکھتا ہے جو اوروں۔سے سے رکھتا ہے لیکن کفارہ سے اور مسیح کے آسمان پر جانے سے اور اس کے بے باپ پیدا مسیح کی خصوصیت ، ہونے سے اس کی خصوصیت ثابت ہوتی ہے۔اس قول سے مجھے بڑا تعجب پیدا ہوا کفارہ ، آسمان پر ہم لوگ کب اس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح بھی اٹھا۔ہاں حضرت مسیح کا جانے اور بے باپ پیدا ހ وفات پا جانا قرآن شریف کے کئی مقام میں ثابت ہے۔لیکن اگر جی اٹھنے سے روحانی زندگی مراد ہے تو اس طرح سے سارے نبی جیتے ہیں مردہ کون ہے۔کیا انجیل میں نہیں لکھا کہ حواریوں نے حضرت موسی اور الیاس کو دیکھا اور ایسا کہا کہ اے استاد اگر فرماویں تو آپ کے لئے جدا خیمہ اور موسیٰ کے لئے جدا اور الیاس کے لئے جدا کھڑا کیا جائے۔پھر اگر حضرت موسیٰ مردہ تھے تو نظر کیوں آگئے۔کیا مردہ بھی حاضر ہو جایا کرتے ہیں۔پھر اسی انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ لعاذر مرنے کے بعد حضرت ابراہیم کی گود میں بٹھایا گیا۔اگر حضرت ابراہیم مردہ تھے تو کیا مردہ کی گود میں بٹھایا گیا۔واضح رہے کہ ہم حضرت مسیح کی اس زندگی کی خصوصیت کو ہر گز نہیں مانتے بلکہ ہمارا یہ مذہب موافق کتاب و سنت کے ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حیات اقوئی اور اعلیٰ رکھتے ہیں اور کسی نبی کی ایسی اعلی درجہ کی حیات نہیں ہے جیسے آنحضرت صلعم کی۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۲۲ ۲۲۳ جس فدیہ کو عیسائی پیش کرتے ہیں وہ خدا کے قدیم قانون قدرت کے بالکل مخالف ہے۔کیونکہ قانون قدرت میں کوئی اس بات کی نظیر نہیں کہ ادنی ابیچانے کے لئے اعلیٰ کو مارا جائے۔ہمارے سامنے خدا کا قانون قدرت ہے۔اس پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہونے سے ہے 14A ہے کہ ہمیشہ ادنی اعلیٰ کی حفاظت کے لئے مارے جاتے ہیں۔چنانچہ جس قدر دنیا میں کیے قانون قدرات ان کے خلاف ہے کہ اونی کو جانور ہیں یہاں تک کہ پانی کے کپڑے وہ سب انسان کے بچانے کے لئے جو اشرف بچانے کے لئے اعلی کو المخلوقات ہے کام میں آرہے ہیں۔پھر یسوع کے خون کا فدیہ کس قدر اس قانون کے ملا جائے مخالف ہے جو صاف صاف نظر آرہا ہے اور ہر ایک عظمند سمجھ سکتا ہے کہ جو زیادہ قابل قدر اور پیارا ہے۔اسی کو بچانے کے لئے ادنی کو اس اعلیٰ پر قربان کیا جاتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے انسان کی جان بچانے کے لئے کروڑہا حیوانوں کو بطور فدیہ کے دیا ہے۔اور ہم تمام انسان بھی فطرتا ایسا ہی کرنے کی طرف راغب ہیں۔تو پھر خود سوچ لو کہ