مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 632

مسیحی انفاس — Page 224

۲۲۴ 197 من هذا جهل الأب المنان، أما كان يعلم أن المذنبين قومان، ولا يكفي لهم صليب ؛ بل اشتدت الحاجة إلى أن يكون ابنان وصليبان، ولا يقال أن الإبن كان واحدا۔فرضى ليصلب لنوع الإنسان، وما كان ابن آخر لكفارة ابناء الجان، لأنا نقول في جوابه : ان الأب كان قادراً على أن يلد ابنا آخر۔وما كان كالعاجز الحيران، فلا ريب أنه ترك الجن عمداً ، ومن النسيان ، أو ما صلب ابنا ثانيًا مخافة بتره كالجبان۔ومن المحتمل أن يكون الابن الآخر أحب من الابن الأول إلى الأب التوقان۔وهذا ليس بعجيب عند ذوى الأذهان، فإنه قد يتفق أن اصغر من الأبناء يكون أحب إلى الآباء۔ففكر في هذه الآراء، وفي إله هو ذو بنات وبنين۔وسبحانه ربنا عما يخرج من أفواه الظالمين۔(نور الحق، الجزء الأول، روحاني خزائن مجلد ۸ ص ۱۰۱ (1۔0۔۔انجیل سے پایا جاتا ہے کہ شیاطین ضلالت پر مجبور ہیں اور ناپاک روحیں ہیں۔اگر یہ حضرت مسیح کے ذریعہ بات صحیح نہیں تو ثابت کرو کہ حضرت مسیح کے ذریعہ سے کیس شیطان نے نجات یافتہ کس شیطان نے نجات یافتہ ہونے کی خوشخبری ہونے کی خوشخبری پائی بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ وہ ابتداء سے قاتل تھا اور شیاطین میں سچائی لم پائی؟ 192 نہیں۔حضرت مسیح شیاطین کے لئے کبھی کفارہ تھے یا نہیں۔اس کا کیا ثبوت ہے۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۹ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگر چہ مسیح میں اور کچھ بھی زیادتی نہیں صرف ایک انسان ہے بلکہ کافی طور پر یہ مقصد تب پورا ہو سکتا ہے کہ جب دو بیٹوں کو پھانسی دیا جاتا۔یہ بات کہنے کے لائق نہیں کہ بیٹا تو صرف ایک ہی تھاوہ اس پر راضی تھا کہ وہ فقط نوع انسان کے لئے پھانسی دیا جاوے کوئی دوسرا بیٹا تو نہیں تھا کہ تا جنوں کے لئے پھانسی دیا جاتا کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ باپ اس بات پر قادر تھا کہ اس بات کے لئے کوئی اور بیٹا جنے جیسا کہ اس نے پہلا بیٹا جنا پس کچھ شک نہیں کہ اس نے جنوں کے گروہ کو عمداً عذاب ابدی میں چھوڑا اور محض بخل کی راہ سے ان کے لئے کوئی پھانسی پر نہ لٹکایا اور یہی گمان ہو سکتا ہے کہ چھوٹا بیٹا بڑے بیٹے سے زیادہ پیارا ہو اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ کبھی یہ بھی اتفاق ہو جاتا ہے کہ چھوٹا بڑے سے باپ کو زیادہ پیارا ہوتا ہے پس اس بات میں فکر کر اور اس خدا کے بارہ میں جس کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔اور ہمارا خدا ان باتوں سے پاک ہے جو ظالموں کے منہ سے نکلتی ہیں۔