مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 632

مسیحی انفاس — Page 222

۲۲۲ يجعلونه شريك الباري، ويحسبونه رب العالمين، ويقولون ما يقولون، ولا يخافون يوم الدين۔وينظرون أن المسيح صلب ولعن لأجل معاصيهم، وأخذ لإنجائهم وعذب لتخليصهم ، وأن الخلق أحفظ الأب بذنوبهم، وكان الأب فظا غليظ القلب سريع الغضب بعيدا عن الحلم والكرم، ومغتاظا كالحرق المضطرم ، فأراد أن يدخلهم في النار ، فقام الابن ترحما على الفجار۔وكان حليما ، من رحيما كالأبرار۔فمنع الأب من قهره وزيادته۔فما امتنع ، وما رجع إرادته۔فقال الابن يا أبت إن كنت أزمعت تعذيب الناس وإهلاكهم بالفأس ، ولا تمتنع ولا تغفر ولا ترحم، ولا تزدجر فها أنا أحمل أوازرهم، وأقبل ما أبارهم، فاغفر لهم، وافعل بي ما تريد، إن كان قليلا أو يزيد۔فرضى الأب على أن يصلب ابنه لأجل خطايا الناس فنجي المذنبين، وأخذ المعصوم، وعذبه بأنواع الباس كالمذنبين۔کیا خدا تعالی بیٹے کو هذا ما قالوا ، ولكن العجب من الأب الذى كان نشوانا، أو في السبات ، أنه نسي پھانسی دیتے وقت ثیرات کی تعلیم بھول عند صلیب ابنه ما كتب في التوراة ، وقال : لا أهلك إلا الذى عصاني ، ولا آخذ أحدا مكان أحد من العصاة۔فنكث العهد، وأخلف الوعد ، وترك العاصين، گیا تھا ؟ لوگ اس کو خدا تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اس کو رب العالمین سمجھتے ہیں اور جو کہتے ہیں سو کہتے ہیں اور قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے۔اور یہ خیال کر رہے ہیں کہ مسیح ان کے گناہوں کے لئے مصلوب اور ملعون ہوا اور ان کے بچانے کے لئے ماخوذ اور معذب ہوا اور خلقت نے باپ کو اپنے گناہوں سے غصہ دلایا اور باپ سخت دل سریع الغضب تھا حلم اور کرم اس میں نہیں تھا بلکہ غصہ سے آگ کی طرح بھڑ کا ہوا تھا سو اس نے چاہا کہ خلقت کو دوزخ میں ڈالے سو بیٹا بد کاروں پر رحم کھا کر کے شفاعت کے لئے کھڑا ہو گیا اور بیٹا حلیم اور رحیم اور نیک آدمی تھا پس اس نے اپنے باپ کو قہر اور زیادت سے منع کیا مگر باپ اپنے ارادہ سے باز نہ آیا سو بیٹے نے کہا کہ اے باپ! اگر تیرا ہی ارادہ ہے کہ لوگوں کو ہلاک کرے اور کسی طرح تو ان کو نہیں بخشا اور نہ رحم کرتا ہے سو میں تمام لوگوں کے گناہ اپنی گردن پر لے لیتا ہوں سوان کو تو بخش دے اور جو تو نے عذاب دینا ہے وہ مجھے عذاب دے سو اس کلمہ سے باپ غضبناک راضی ہو گیا اور اس کے حکم سے بیٹا پھانسی دیا گیا تا گناہگاروں کو چھوڑا دے اور گناہگاروں کی طرح اس معصوم پر عذاب ہوا۔یہ وہ باتیں ہیں جو عیسائی کہتے ہیں لیکن باپ سے تعجب ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو پھانسی دینے کے وقت اپنے اس قول کو بھول گیا جو توریت میں کہا تھا کہ میں اسی کو ہلاک کروں گا جو میرا گناہ کرے اور میں ایک کی جگہ دوسرے کو نہیں پکڑوں گا۔سو اس نے عہد