مسیحی انفاس — Page 221
۲۲۱ ہو۔اور یہ بات سچ ہے کہ اللہ تعالٰی بدی پر راضی نہیں۔کفر پر راضی نہیں۔اس سے کون انکار کرتا ہے۔مگر جرائم اسی وقت جرائم کہلاتے ہیں جب قانون ان کو جرائم ٹھہر اوے ورنہ دنیا میں صد با طور کے ناجائز امور ہوئے اور ہو رہے ہیں وہ اگر کتاب الہی سے خارج ہوں تو کیونکر جرائم ہو سکتے ہیں۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۲۶۷، ۲۶۸ کسی کے گناہ سے خدائے تعالیٰ کا کوئی حرجہ نہیں ہوتا اور گناہ پہلے قانون نازل ہونے کے کچھ وجود نہیں رکھتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ماكنا معذبين حتى نبعث کیا کفارہ وعدوں کو توڑ رسولا ۳ ۱۵۔یعنی ہم گناہوں پر عذاب نہیں کیا کرتے جب تک رسول نہیں بھیجتے۔اور سکتا ہے ؟ جب رسول آیا اور خیر و شر کا راہ بتلایا تو اس قانون کے وعدوں اور وعیدوں کے موافق عملدرامد ہو گا کفارہ کی تلاش میں لگنا ہنسی کی بات ہے۔کیا کفارہ وعدوں کو توڑ سکتا ہے بلکہ وعدہ سے وعدہ بدلتا ہے اور نہ کسی اور تدبیر سے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سلم عَلَيْكُم كتب ريكو على نفسه الرحمة انه من عمل شكم سور ابجهالة ثم تاب من بعده واصلح فإنه غفور حیم اور یہ کہنا کہ اعمال حسنہ ادائے قرضہ کی صورت میں ہیں غلط فہمی ہے۔قرضہ تو اس صورت میں ہوتا کہ جب حقوق کا مطالبہ ہوتا۔اب جب کہ گناہ صرف ترک قانون سے پیدا ہوا نہ ترک حقوق سے اور عبادت صرف کتابی فرمانوں پر عمل کرنے کا نام ہے تو نجات عدم نجات کا صرف قانونی وعده و وعید پر مدار رہا۔جنگ مقدس - روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷۸ تا ۲۸۱ ۲۹۵ وعجبت للنصارى ، ولا عجب من المسرفين، أنهم يقرون بأن عيسى كان عبد الله وابن آدم ، وكان يقول : إني رسول الله وعبده، وحث الناس على التوحيد والاجتناب من الشرك وانكسر وتواضع وقال : لا تقولوا لى صالحا ، ثم باپ اور بیٹے کے عجیب 6 اور مجھے عیسائیوں سے تعجب آتا ہے اور جو زیادتی کرے اس پر کچھ تعجب بھی نہیں۔وہ اقرار کرتے ہیں که عینی خدا کا بندہ اور ابن آدم تھا اور کہا کرتا تھا کہ میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور توحید کے لئے رغبت دیتا تھا اور شرک سے ڈراتا تھ اور کسر نفسی اس میں اتنی تھی کہ اس نے کہا کہ مجھے نیک مت کہو۔پھر یہ