مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 632

مسیحی انفاس — Page 6

گئے ہیں۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۱ حاشیہ آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہو گا اور مختلف قوموں میں بہت پر سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاویگا یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی مصلح اینگا ر حقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ جبکہ فتنہ کی بنیاد نصاری کی طرف سے ہوگی اور خدا تعالیٰ کا بڑا مطلب یہ ہو گا کہ ان کی صلیب کی شان کو توڑے۔اس لئے جو شخص نصاری کی دعوت کے لئے بھیجا گیا بوجہ رعائت حالت اس قوم کے جو مخاطب ہے اس کا نام مسیح اور عیسی رکھا گیا اور دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ جب نصاری نے حضرت عیسی کو خدا بنایا اور اپنی مفتریات کو ان کی طرف منسوب کیا اور ہزار ہا مکاریوں کو زمین پر پھیلایا اور حضرت مسیح کی قدر کو حد سے زیادہ بڑہا دیا تو اس زندہ اور وحید اور بے مثل کی غیرت نے چاہا کہ اسی امت سے عیسیٰ ابن مریم کے نام پر ایک بندہ کو بھیجے اور کرشمہ قدرت کا دکھلاوے تا ثابت ہو کہ بندوں کو خدا بنانا حماقت ہے وہ جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور مشت خاک کو افلاک تک پہنچا سکتا ہے۔شہادت القران۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۲ صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے جس میں مسیح موعود کا نام کا سر الصلیب رکھتا ہے اور در حقیقت بچے مسیح موعود کی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہو۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود ایسے زمانہ میں آئیگا جبکہ ہر طرف سے ایسے اسباب پیدا ہو جائینگے کہ جن کی پر زور تاثیروں سے صلیبی مذہب عظمندوں کے دلوں میں سے گرتا جائیگا۔چنانچہ یہ وہی زمانہ ہے۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۶ حاشیه صلیبی مذہب کا صفحہ دنیا سے معدوم ہونا جس کا حدیثوں میں ذکر ہے۔بجز اس صورت کے کسی طرح ممکن نہیں۔کیونکہ عیسائی مذہب کو گرانے کے لئے جو صورتیں ذہن میں آسکتی ہیں وہ صرف تین ہیں۔۱۔اول یہ کہ تلوار سے اور لڑائیوں سے اور جبر سے عیسائیوں کو مسلمان