مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 632

مسیحی انفاس — Page 7

کیا جائے جیسا کہ عام مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ ان کا فرضی مسیح موعود اور مہدی معہود یہی کام دنیا میں آکر کرے گا۔اور اس میں صرف اسی قدر لیاقت ہوگی کہ خونریزی اور جبر سے لوگوں کو مسلمان کرنا چاہے گا۔لیکن جس قدر اس کاروائی میں فساد ہیں حاجت بیان نہیں۔ایک شخص کے جھوٹے ہونے کے لئے یہ دلیل کافی ہو سکتی ہے کہ وہ لوگوں کو جبر سے اپنے دین میں داخل کرنا چاہے۔لہذا یہ طریق اشاعت دین کا ہر گز درست نہیں ہے اور اس طریق کے امیدوار اور اس کے انتظار کرنے والے صرف وہی لوگ ہیں جو درندوں کی صفات اپنے اندر رکھتے ہیں۔اور آیت لا اکراہ فی الدین سے بے خبر ہیں۔دوسری صورت صلیبی مذہب پر غلبہ پانے کی یہ ہے کہ معمولی مباحثات سے جو ہمیشہ اہل مذہب کیا کرتے ہیں۔اس مذہب کو مغلوب کیا جائے۔مگر یہ صورت بھی ہر گز کامل کامیابی کا ذریعہ نہیں ہو سکتی کیونکہ اکثر مباحثات کا میدان وسیع ہو سکتا ہے اور دلائل عقلیہ اکثر نظرنی ہوتے ہیں اور ہر ایک نادان اور موٹی عقل والے کا کام نہیں کہ عقلی اور نقلی دلائل کو سمجھ سکے۔اسی لئے بت پرستوں کی قوم باوجود قابل شرم عقیدوں کے اب تک جابجا دنیا میں پائی جاتی ہے۔تیسری صورت صلیبی مذہب پر غلبہ پانے کی یہ ہے کہ آسمانی نشانوں سے اسلام کی برکت اور عزت ظاہر کی جائے اور زمین کے واقعات سے امور محسوسہ بدیہیہ کی طرح یہ ثابت کیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ جسم عصری کے ساتھ آسمان پر گئے بلکہ اپنی طبعی موت سے مرگئے۔اور یہ تیسری صورت ایسی ہے کہ ایک متعصب عیسائی بھی اقرار کر سکتا ہے کہ اگر یہ اور بات پایہ ثبوت پہنچ جائے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے۔تو پھر ہوئے اور تو عیسائی مذہب باطل ہے اور کفارہ اور تشکیت سب باطل۔اور پھر اس کے ساتھ جب آسمانی نشان بھی اسلام کی تائید میں دکھلائے جائیں تو گویا اسلام میں داخل ہونے کے لئے تمام زمین کے عیسائیوں پر رحمت کا دروازہ کھول دیا جائیگا۔سو یہی تیسری صورت ہے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں۔خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو مجھے آسمانی نشان عطا فرمائے ہیں اور کوئی نہیں کہ ان میں میرا مقابلہ کر سکے۔اور دنیا میں کوئی عیسائی نہیں کہ جو آسمانی نشان میرے مقابل پر دکھلا سکے۔اور دوسری خدا کے فضل اور کرم اور رحم نے میرے پر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے نہ آسمان پر چڑھے بلکہ صلیب سے نجات پاکر کشمیر کے ملک میں آئے اور اسی جگہ وفات پائی۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۶ تا ۱۶۸