مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 632

مسیحی انفاس — Page 211

۲۱۱ حاصل کرنے کے لئے قدیم سے قانون قدرت یہی ہے جو ہم ان کھڑکیوں کو کھول دیں جو اس آفتاب حقیقی کے سامنے ہیں۔تب وہ کر نہیں اور شعائیں جو بند کرنے سے گم ہو گئی تھیں یک دفعہ پھر پیدا ہو جائیں گی۔دیکھو خدا کا جسمانی قانون قدرت بھی یہی گواہی دے رہا ہے۔اور کسی ظلمت کو ہم دور نہیں کر سکتے جب تک ایسی کھڑکیاں نہ کھول دیں جن سے سیدھی شعائیں ہمارے گھر میں پڑ سکتی ہیں۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ عقل سلیم کے نزدیک یہی صحیح ہے جو ان کھڑکیوں کو کھولا جائے۔تب ہم نہ صرف نور پائیں گے بلکہ اس مبدء الانوار کو بھی دیکھ لیں گے۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۸، ۷۹ اے خدا کے طالب بندو ! کان کھولو اور سنو کہ یقین جیسی کوئی چیز نہیں۔یقین ہی IZA ہوتے ہیں۔کفارہ ہے جو گناہ سے چھڑاتا ہے۔یقین ہی ہے جو نیکی کرنے کی قوت دیتا ہے۔یقین ہی ہے یقین سے منہ زیک جو خدا کا عاشق صادق بناتا ہے۔کیا تم گناہ کو بغیر یقین کو چھوڑ سکتے ہو۔کیا تم جذبات مکہ ترکی میں کرا نفس سے بغیر یقینی تجلی سے رک سکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی تسلی پاسکتے ہو۔کیا تم کہا۔بغیر یقین کے کوئی کچی تبدیلی پیدا کر سکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی کچی خوشحالی حاصل کر سکتے ہو۔کیا آسمان کے نیچے کوئی ایسا کفارہ اور ایسا فدیہ ہے جو تم سے گناہ ترک کرا سکے۔کیا مریم کا بیٹا عیسی ایسا ہے کہ اس کا مصنوعی خون گناہ سے چھڑائے گا۔اے عیسائیو! ایسا جھوٹ مت بولو۔جس سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔یسوع خود اپنی نجات کے لئے یقین کا محتاج تھا اور اس نے یقین کیا اور نجات پائی۔افسوس ہے ان عیسائیوں پر جو یہ کہہ کر مخلوق کو دھوکا دیتے ہیں کہ ہم نے مسیح کے خون سے گناہ سے نجات پائی ہے۔حالانکہ وہ سر سے پیر تک گناہ میں غرق ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ ان کا کون خدا ہے۔بلکہ زندگی تو غفلت آمیز ہے۔شراب کی مستی ان کے دماغ میں ہے۔مگر وہ پاک مستی جو آسمان سے اترتی ہے اس سے وہ بے خبر ہیں۔اور جو زندگی خدا کے ساتھ ہوتی ہے اور جو پاک زندگی کے نتائج ہوتے ہیں وہ اس سے بے نصیب ہیں۔پیں تم یادرکھو کہ بغیر یقین کے تم تاریک زندگی سے باہر نہیں آسکتے اور نہ روح القدس تمہیں مل سکتا ہے۔مبارک وہ جو یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہی خدا کو دیکھیں گے۔مبارک وہ جو شبہات اور شکوک سے نجات پاگئے ہیں۔کیونکہ وہی گناہ سے