مسیحی انفاس — Page 210
گا۔اور وہ روشنی جو محض آفتاب سے ملتی ہے یک لخت دور ہو کر ظلمت پیدا ہو جائے گی۔اور وہی ظلمت ہے جو ضلالت اور جہنم سے تعبیر کی جاتی ہے۔کیونکہ دکھوں کی وہی جڑ جو اور ہے۔ہے۔اور اس ظلمت کا دور ہونا اور اس جہنم سے نجات پانا اگر قانون قدرت کے طریق پر تلاش کی جائے تو کسی کے مصلوب کرنے کی حاجت نہیں بلکہ وہی کھڑکیاں کھول دینی چاہئیں جو ظلمت کی باعث ہوئی تھیں۔کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ہم در حالیکہ نور پانے کی کھڑکیوں کے بندر کھنے پر اصرار کریں کسی روشنی کو پاسکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں۔سوگناہ کا معاف ہونا کوئی قصہ کہانی نہیں جس کا ظہور کسی آئندہ زندگی پر موقوف ہو۔اور یہ بھی نہیں کہ یہ امور محض بے حقیقت اور مجازی گورنمنٹوں کی نافرمانیوں اور قصور بخشی کے رنگ میں ہیں بلکہ اس وقت انسان کو مجرم یا گنہگار کہا جاتا ہے کہ جب وہ خدا سے اعراض کر کے اس روشنی کے مقابلہ سے پرے ہٹ جاتا اور اس چمک سے ادھر ادھر ہو جاتا ہے جو خدا سے اترتی اور دلوں پر نازل ہوتی ہے۔اس حالت موجودہ کا نام خدا کی کلام میں ہے جس کو پارسیوں نے مبدل کر کے گناہ بنالیا ہے اور جنح جو اس کا مصدر ہے اس کے معنے ہیں میل کرنا اور اصل مرکز سے ہٹ جاتا۔پس اس کا نام جناح یعنی گناہ اس لئے ہوا کہ انسان اعراض کر کے اس مقام کو چھوڑ دیتا ہے جو الہی روشنی پڑنے کا مقام ہے اور اس خاص مقام سے دوسری طرف میل کر کے ان نوروں سے اپنے تئیں دور ڈالتا ہے جو اس سمت مقابل میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ایسا ہی جرم کا لفظ جس کے معنے بھی گناہ ہیں جرم سے مشتق ہے اور جرم عربی زبان میں کاٹنے کو کہتے ہیں پس جرم کا نام اس لئے جرم ہوا کہ جرم کا مرتکب اپنے تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے کاتا ہے اور باعتبار مفہوم کے جرم کا لفظ جناح کے لفظ سے سخت تر ہے۔کیونکہ جناح صرف میل کا نام ہے جس میں کسی طرح کا ظلم ہو۔مگر جرم کا لفظ کسی گناہ پر اس وقت صادق آئے گا کہ جب ایک شخص عمداً خدا کے قانون کو توڑ کر اور اس کے تعلقات کی پرواہ نہ رکھ کر کسی ناکردنی امر کا دیدہ دانستہ ارتکاب کرتا ہے۔جناح اب جب کہ حقیقی پاکیزگی کی حقیقت یہ ہوئی جو ہم نے بیان کی ہے تو اب اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ گم شدہ انوار جن کو انسان تاریکی سے محبت کر کے کھو بیٹھتا ہے کیا وہ صرف کسی شخص کو مصلوب ماننے سے مل سکتے ؟ سو جواب یہ ہے کہ یہ خیال بالکل غلط اور فاسد ہے۔بلکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ ان نوروں کے و ۲۱۰