مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 632

مسیحی انفاس — Page 209

۲۰۹ ایک عیسائی سے اگر پوچھا جائے کہ تو جو دعوی کرتا ہے کہ مسیح کے خون سے میرے گناہ پاک ہو گئے تیرے پاس اس کا کیا ثبوت ہے ؟ وہ کون سے فوق العادت امور تجھ میں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے ایک غیر معمولی خدا ترسی اور نکو کاری کی روح تجھ میں پھونک دی ہے توہ کچھ جواب نہ دے سکے گا۔برخلاف اس کے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کنارہ کے نیچی می کند 164 تو میں اس کو ان خارق عادت امور کا زبر دست ثبوت دے سکتا سے پاک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ہوں۔اور اگر کوئی طالب صادق ہو۔اور اس میں شتاب کاری اور بدظنی کی قوت بڑھی ہوئی نہ ہو تو میں اسے مشاہدہ کرا سکتا ہوں۔بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دلائل نہ بھی ملیں تو ان کی تاثیرات بجائے خود انسان کو قائل کر دیتی ہیں اور وہی تاثیرات دلائل کے قائم مقام ہو جاتی ہیں۔کفارہ کے حق ہونے کے اگر دلائل عیسائیوں کے پاس نہیں ہیں جیسا کہ وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک راز ہے تو ہم پوچھتے ہیں کہ وہ تاثیرات کو ہی پیش کریں جو کفارہ کے اعتقاد نے پیدا کی ہیں۔یورپ کی اباحتی زندگی دور سے ان تاثیرات کا نمونہ دکھارہی ہے اس سے بڑھ کر وہ کیا پیش کریں گے۔اور یہ ایک عظمند کے سمجھ لینے کے واسطے کافی ہے کہ کیا اثر ہوا۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحہ ۱۹ عیسائیوں کے اصول پر ایک ہمارا یہ اعتراض تھا کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ نجات کا اصل ذریعہ گناہوں سے پاک ہونا ہے اور پھر باوجود تسلیم اس بات کے گناہوں سے پاک ہونے کا حقیقی طریقہ بیان نہیں کرتے بلکہ ایک قابل شرم بناوٹ کو پیش کرتے ہیں گناہ کیا ہے ؟اس کو دور جس کو گناہوں سے پاک ہونے کے ساتھ کوئی حقیقی رشتہ نہیں۔یہ بات نہایت صاف کرنے کا طریق ہے اور ظاہر ہے کہ چونکہ انسان خدا کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے اس کا تمام آرام اور ساری خوشحالی صرف اسی میں ہے کہ وہ سارا خدا کا ہی ہو جائے۔اور حقیقی راحت کبھی ظاہر نہیں ہو سکتی جب تک انسان اس حقیقی رشتہ کو جو اس کو خدا سے ہے مکمن قوت سے چیز فعل میں نہ لاوے۔لیکن جب انسان خدا سے منہ پھیر لیوے تو اس کی مثال ایسی ہو جاتی ہے جیسا کہ کوئی شخص ان کھڑکیوں کو بند کر دیوے جو آفتاب کی طرف تھیں اور کچھ شک نہیں کہ ان کے بند کرنے کے ساتھ ہی ساری کوٹھری میں اندھیرا پھیل جائے