مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 632

مسیحی انفاس — Page 207

۲۰۷ مسیح کے ساتھ پھرتی تھی۔نور القرآن حصہ اول۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۳۶۹ حاشیہ ۱۷۵ افسوس کہ اکثر انسانوں نے بدقسمتی سے اس اصول کی طرف توجہ نہیں کی اور ایسے بیہودہ طریق گناہ سے پاک ہونے کے لئے اپنے دل میں تراشے ہیں کہ وہ اور بھی گناہ پر یہ طریق گناہ پر دیر کرتا گستاخ کرتے ہیں۔مثلاً یہ خیال کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام کے ہے۔صلیب دئیے جانے پر ایمان لانا اور ان کو خدا سمجھنا انسان کے تمام گناہ معاف ہو جانے کا موجب ہے۔کیا ایسے خیال سے توقع ہو سکتی ہے کہ انسان میں سچی نفرت گناہ سے پیدا کرے۔صاف ظاہر ہے کہ ہر ایک ضد اپنی ضد سے دور ہوتی ہے۔سردی کو گرمی دور کرتی ہے اور تاریکی کے ازالہ کا علاج روشنی ہے۔پھر یہ علاج کس قسم کا ہے کہ زید کے مصلوب ہونے سے بکر گناہ سے پاک ہو جائے بلکہ یہ انسانی غلطیاں ہیں کہ جو غفلت اور دنیا پرستی کے زمانہ میں دلوں میں سما جاتی ہیں۔اور جن پست خیالات کی وجہ سے دنیا میں بت پرستی نے رواج پایا ہے فی الحقیقت ایسے ہی نفسانی اغراض کے سبب سے یہ مذہب صلیب اور کفارہ کا عیسائیوں میں رواج پا گیا ہے۔اصل امر یہ ہے کہ انسان کا نفس کچھ ایسا واقع ہے کہ ایسے طریق کو زیادہ پسند کر لیتا ہے جس میں کوئی محنت اور مشقت نہیں۔مگر سچی پاکیزگی بہت سے دکھ اور مجاہدات کو چاہتی ہے۔اور وہ پاک زندگی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک انسان موت کا پیالہ نہ پی لے۔پس جیسا کہ انسان کی عادت ہے کہ وہ تنگ اور مشکل راہوں سے پر ہیز کرتا ہے اور سہل اور اسان طریق ڈھونڈتا ہے۔اسی طرح ان لوگوں کو یہ طریق صلیب جو صرف زبان کا اقرار ہے اور روح پر کسی مشقت کا اثر نہیں بہت پسند آگیا ہے جس کی وجہ سے خدائے تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو گئی ہے اور نہیں چاہتے کہ گناہوں سے نفرت کر کے پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کریں۔در حقیقت صلیبی اعتقاد ایک ایسا عقیدہ ہے جو ان لوگوں کو خوش کر دیتا ہے جو کچی پاکیزگی حاصل کرنا نہیں چاہتے اور کسی ایسے نسخہ کی تلاش میں رہتے ہیں کہ گندی زندگی بھی موجود ہو اور گناہ بھی معاف ہو جائیں لہذا وہ باوجود بہت سی آلودگیوں کے خیال کر لیتے ہیں کہ فقط خون مسیح پر ایمان لانے سے گناہ پاک ہو گئے مگر یہ پاک ہونا در حقیقت ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک پھوڑا جو پیپ سے بھرا ہوا