مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 632

مسیحی انفاس — Page 206

۲۰۶ ہوتی تو پھر بھی کچھ پردہ رہتا۔مگر یورپ تو پردہ کی رسم کا دشمن ہے۔ہم یورپ کے فلسفہ کو نہیں سمجھ سکتے۔اگر وہ اس اصرار سے باز نہیں آتے تو شوق سے شراب پیا کریں۔کہ اس کے ذریعہ سے کفارہ کے فوائد بہت ظاہر ہوتے ہیں۔کیونکہ مسیح کے خون کے سہارے پر جو لوگ گناہ کرتے ہیں شراب کے وسیلہ سے ان کی میزان بڑہتی ہے۔ہم اس بحث کو زیادہ طول نہیں دینا چاہتے۔کیونکہ فطرت کا تقاضہ الگ الگ ہے۔ہمیں تو ناپاک چیزوں کے استعمال سے کسی سخت مرض کے وقت بھی ڈر لگتا ہے۔چہ جائیکہ پانی کی جگہ شراب پی جائے۔نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۳۲ تا ۴۳۴ عیسائی ہو کر سب سے پہلی نیکی شراب پینا ہے۔اور پھر آگے جوں جوں ترقی کرے گا اپنے کمال کو پہنچے گا تو کفارہ پر ایمان لاوے گا اور یقین کرے گا کہ شریعت لعنت ہے کلالہ کے نتیجہ میں اور کہ حضرت مسیح ساری امت کے گناہوں کے بدلے پھانسی پا کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ہو چکا۔پھر گناہ کرے گا اور پیٹ بھر کر کرے گا اور اسے کسی کا خوف نہ ہو گا اور خوف ہو تو کیسے ؟ کیا مسیج ان کے لئے پھانسی نہیں دیا گیا ؟ غرض یہ تو ان کی عملی حالت ہے۔پھر دنیا کو خدائی کا جو نمونہ دیا گیا تھا وہ ایسا کمزور اور ناتواں نکلا کہ تھپڑ کھائے پھانسی دیا گیا اور دشمنوں کا کچھ نہ کر سکا۔پس انہیں باتوں سے وہ خدا کے بھی منکر ہو گئے ہیں اور وہ لوگ بیچارے ہیں بھی معذور۔کیونکہ یہ سب امور فطرت انسانی کے بالکل خلاف پڑے بھلا کفارہ ایسی بیہودہ تعلیم سے بجز نا پاک زندگی کے اور ایسے کمزور اور ناتواں خدا تھکے ماننے سے بجز ذلت و ادبار کی مار کے اور حاصل ہی کیا ؟ انہوں نے بھی فیصلہ کر لیا کہ ایسے خدا سے ہم یو اپنی اچھے ہیں۔یہ ان کا قصور نہیں بلکہ تعلیم کا قصور ہے۔ملفوظات۔جلد ۱۰ صفحه ۲۴۶٫۲۴۵ عیسائی کفارہ پر بہت ناز رکھتے ہیں مگر عیسائی تاریخ کے واقف اس سے بے خبر نہیں کہ مسیح کی خود کشی سے پہلے جو عیسائیوں کے زعم میں ہی تھوڑے بہت عیسائی نیک چلن ور بعد اتوار تھے مگر خود کشی کے بعد تو عیسائیوں کی بدکاریوں کا بند ٹوٹ گیا۔کیا یہ کفارہ کی نسل جو پہلے والوں کی اب یورپ میں موجود ہے اپنی چال چلن میں ان لوگوں سے مشابہ ہے جو کفارہ سے پہلے حالت