مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 632

مسیحی انفاس — Page 205

۲۰۵ پیدا کرتا ہے۔بجائے خود گناہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کو گناہ سے نجات پانے کے ساتھ کوئی تعلق ہی یہ مالی منہ خود گناہ نہیں ہے۔انہوں نے گناہ کے دور کرنے کا علاج گناہ تجویز کیا ہے جو کسی حالت اور صورت میں مناسب نہیں۔یہ لوگ اپنے نادان دوست ہیں۔اور ان کی مثال اس بندر کی سی ہے جس نے اپنے آقا کا خون کر دیا تھا۔اپنے بچاؤ کے لئے اور گناہوں سے نجات پانے کے لئے ایک ایسا گناہ تجویز کیا جو کسی صورت میں بخشا نہ جاوے یعنی شرک کیا اور عاجز انسان کو خدا بنا لیا۔مسلمانوں کے لئے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ ان کا خدا ایسا خدا نہیں جس پر کوئی اعتراض یا حملہ ہو سکے۔وہ اس کی طاقتوں اور قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی صفات پر یقین لاتے ہیں۔مگر جنہوں نے انسان کو خدا بنایا یا جنہوں نے اس کی قدرتوں سے انکار کر دیا، ان کے لئے خدا کا عدم ووجود برابر ہے۔ملفوظات۔جلد ۸ صفحه ۲۵۵ ۲۵۶ نیز دیکھیں۔لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۸۸، ۲۸۹ کفاره عیسائی صاحبوں کی تعلیم کو اس جگہ مفصل لکھنے کی ضرورت نہیں۔خون مسیح اور کفارہ کا ایک ایسا مسئلہ ہے۔جس نے ان کو نہ صرف تمام مجاہدات اور ریاضیات سے فارغ کر دیا ہے بلکہ اکثر ولوں کو گناہوں کے ارتکاب پر ایک دلیری بھی پیدا ہو گئی ہے۔کیونکہ جب کہ عیسائی صاحبوں کے ہاتھ میں قطعی طور پر گناہوں کے بخشے جانے کا ایک نسخہ کندہ گناہ پر دلیر کرا ہے۔یعنی خون مسیح تو صاف ظاہر ہے کہ اس نسخہ نے قوم میں کیا کیا نتائج پیدا کئے ہوں ہے (کھار ) گئے۔اور کس قدر نفس امارہ کو گناہ کرنے کے لئے ایک جرات پر آمادہ کر دیا ہو گا۔اس نسخہ نے جس قدر یورپ اور امریکہ کی عملی پاکیزگی کو نقصان پہنچایا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ اس کے بیان کرنے کی مجھے ضرورت نہیں۔بالخصوص جب سے اس نسخہ کی دوسری جزو شراب بھی اس کے ساتھ ملحق ہو گئی ہے۔تب سے تو یہ نسخہ ایک خطرناک اور بھڑکنے والا مادہ بن گیا ہے۔اس کی تائید میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسی علا السّلام شراب پیا کرتے تھے۔ہر ایک بچے عیسائی کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی شراب پیوے اور اپنے مرشد کی پیروی کرے۔خونِ مسیح کی دلیری اور شراب کا جوش تقوی کی بیخ کنی میں کامیاب ہو گیا ہے۔ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا کفارہ کے مسئلہ نے یہ خرابیاں زیادہ پیدا کی ہیں یا شراب نے۔اگر اسلام کی طرح پردہ کی رسم