مسیحی انفاس — Page 193
١٩٣ تعالیٰ کی راہ میں ایسے طور سے زندگی وقف کر دی جائے کہ جس کو بچی قربانی کہہ سکتے ہیں۔اب مختصر بیان یہ ہے کہ آپ کے نزدیک یہ طریق نجلت کا جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے صحیح نہیں ہے تو اول آپ کو چاہئے کہ اس طریق کے مقابل پر جو حضرت مسیح کی زبان کیا اس کی زبان سے کوئی سے ثابت ہوتا ہے اس کو ایسا ہی مدلل اور معقول طور پر ان کی تقریر کے حوالہ سے پیش طریق نجات بیان کریں پھر بعد اس کے انہیں کے قول مبارک سے اس کی نشانیاں بھی پیش کریں ڈیٹی صاحب ! کوئی حقیقت بغیر نشانوں کے ثابت نہیں ہو سکتی۔دنیا میں بھی ایک معیار حقائق شناسی کا ہے کہ ان کو ان کی نشانیوں سے پر کھا جائے۔سو ہم نے تو وہ نشانیاں پیش کر دیں اور ان کا دعوی بھی اپنی نسبت پیش کر دیا۔اب یہ قرضہ ہمارا آپ کے ذمہ ہے۔اگر آپ پیش نہیں کریں گے اور ثابت کر کے نہیں دکھلائیں گے کہ یہ طریق نجات جو حضرت مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کس وجہ سے سچا اور صحیح اور کامل ہے تو اس وقت تک آپ کا یہ دعوی ہر گز صحیح نہیں سمجھا جا سکتا۔بلکہ قرآن کریم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ صحیح اور سچا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے صرف بیان ہی نہیں کیا بلکہ کر کے بھی دکھا دیا اور اس کا ثبوت میں پیش کر چکا ہوں آپ براہ مہربانی اب اس نجات کے قصہ کو بے دلیل اور بے وجہ صرف دعوی کے طور پر پیش نہ کریں۔کوئی صاحب آپ میں سے کھڑے ہو کر اس وقت بولیں کہ میں بموجب فرمودہ حضرت مسیح کے نجات پا گیا ہوں اور وہ نشانیاں نجات کی اور کامل ایمانداری کی جو حضرت مسیح نے مقرر کی تھیں وہ مجھ میں موجود ہیں۔پس ہمیں کیا انکار ہے۔ہم تو نجات ہی چاہتے ہیں۔لیکن زبان کی نسانی کو کوئی قبول نہیں کر سکتا۔میں آپ کی خدمت میں عرض کر چکا ہوں کہ قرآن کا نجات دینامیں نے بچشم خود دیکھ لیا ہے۔اور میں پھر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بالمقابل اس بات کو دکھلانے کو حاضر ہوں لیکن اول آپ دو حرفی مجھے جواب دیں کہ آپ کے مذہب میں سچی نجات معہ اس کی علامات کے پائی جاتی ہے یا نہیں۔اگر پائی جاتی ہے تو دکھلاؤ۔پھر اس کا مقابلہ کرو اگر نہیں پائی جاتی تو آپ صرف اتنا کہہ دو کہ ہمارے مذہب میں نجات نہیں پائی جاتی۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۴۶ تا ۱۴۹ خدا کو جیسا کہ خدا ہے بغیر کسی غلطی کے پہچان اور اسی عالم میں بچے اور صحیح طور پر اس کی ہوا؟ [109]