مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 194 of 632

مسیحی انفاس — Page 194

۱۹۴ ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا یہی تمام روشنی کا مبدء ہے۔اسی مقام سے ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا پر بھی موت اور دکھ اور مصیبت اور جہالت وارد ہو جاتی ہے اور وہ بھی ملعون ہو کر نچی پاکیزگی اور رحمت اور علوم حقہ سے محروم ہو جاتا ہے ایسے لوگ گمراہی کے گڑھے میں میں پڑے ہوئے ہیں اور بچے علوم اور حقیقی معارف جو ر حقیقت مدار نجات ہیں ان سے وہ لوگ در حقیقت بے خبر ہیں۔نجات کا مفت ملنا اور اعمال کو غیر ضروری ٹھہرانا جو عیسائیوں کا خیال ہے۔ان کی سراسر غلطی ہے۔ان کے فرضی خدا نے بھی چالیس روزے رکھتے تھے اور موسیٰ نے کوہ سینا پر روزے رکھے۔پس اگر اعمال کچھ چیز نہیں ہیں تو یہ دونوں بزرگ اس بیہودہ کام میں کیوں پڑے۔جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالی بدی سے بیزار ہے تو ہمیں اس سے سمجھ آتا ہے کہ وہ نیکی کرنے نجات اعمال سے ملتی سے نہایت درجہ خوش ہوتا ہے۔پس اس صورت میں نیکی بدی کا کفارہ ٹھہرتی ہے اور نیکی ، بدی کا کفارہ بھرتی ہے۔ہے۔اور جب ایک انسان بدی کرنے کے بعد ایسی نیکی بجالایا جس سے خدا تعالیٰ خوش ہوا تو ضرور ہے کہ پہلی بات موقوف ہو کر دوسری بات قائم ہو جائے ورنہ خلاف عدل ہو 14۔نجات ہے۔گا۔اسی کے مطابق اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا الله الحسنات يذهبن البيان یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ہے که کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۸۱،۸۰ منجملہ ہمارے اعتراضات کے ایک یہ اعتراض بھی تھا کہ عیسائی اپنے اصول کے موافق اعمال صالحہ کو کچھ چیز نہیں سمجھتے اور ان کی نظر میں یسوع کا کفارہ نجات پانے کے یکی بجا لانے والا اور لئے ایک کافی تدبیر ہے لیکن علاوہ اس بات کے کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ یسوع کا کفارہ نہ تو عیسائیوں کو بدی سے بچا سکا اور نہ یہ بات صحیح ہے کہ کفارہ کی وجہ سے ہر ایک بدی ان کو حلال ہو گئی۔ایک اور امر منصفوں کے لئے قابل غور ہے اور وہ یہ کہ عقلی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ نیک کام بلاشبہ اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتے ہیں کہ جو نیکو کار کو وہ تاثیر نجات کا پھل بخشتی ہے۔کیونکہ عیسائیوں کو بھی اس بات کا اقرار ہے کہ بدی اپنے اندر ایک ایسی تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا مرتکب ہمیشہ کے جہنم میں جاتا ہے۔تو اس صورت میں قانون قدرت کے اس پہلو پر نظر ڈال کر یہ دوسرا پہلو بھی ماننا پڑتا ہے کہ علی ہذا القیاس نیکی بھی اپنے اندر ایک تاثیر رکھتی ہے کہ اس کا بجالانے والا وارث نجات بن سکتا