مسیحی انفاس — Page 190
١٩٠ بخشے گئے۔بخشے جاتے ہیں وہ ایک انتظامی امر ہے۔افسوس کہ آپ اس وقت مقنن کیوں بن گئے اور توریت کی آیتوں کو کیوں منسوخ کرنے لگے اگر صرف انتظامی امر ہے اور حقیقت میں گناہ بخشے نہیں جاتے تو توریت سے اس کا ثبوت دینا چاہئے۔توریت صاف کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی شفاعت سے بھی گناہ حضرت موسیٰ کی شفاعت سے کئی مرتبہ گناہ بخشے گئے۔اور بائبل کے تقریباً کل صحیفے خدا تعالیٰ کے رحیم اور تو آب ہونے پر ہمارے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں دیکھو یسعیاہ ۷ / ۵۵ بر میاده ۱۳ / ۳ تواریخ دوم ۷٫۱۴ زبور چهارم ۲۳۲٫۵ امثال ۱۳/ ۲۸ اسی طرح لوقا ۳ - ۷٫۴ اولو قام سے ۲۴ ۵٫ الوقا۲۵، ۲۸ / ۱۰ مرقس ۱۶ / ۱۶ اور پیدائش ۶٫۷،۹ کتاب ایوب ارا حزقیل ۱۴/۱۴ دانیال ۶٫۴ زبور ۱۳۰٫۷٫۴٫۳ زبور ۳۸/ ۷۸ میکا ۷٫۱۸ - غرض کہاں تک لکھوں آپ ان کتابوں کو کھول کر پڑھیں اور دیکھیں کہ سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رحم بلا مبادلہ کی کچھ ضرورت نہیں اور ہمیشہ سے خدا تعالیٰ مختلف ذرائع سے رحم کرتا چلا آیا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ تو بہ اور ایمان باہر کے پھاٹک ہیں یعنی باوجود تو بہ اور ایمان کے پھر بھی کفارہ کی ضرورت ہے یہ آپ کا صرف دعوی ہے جو ان تمام کتابوں سے مخالف ہے جن کے میں نے حوالہ دے دئے۔ہاں اس قدر سچ ہے کہ جیسے اللہ جل شانہ نے باوجود انسان کے خطا کار اور تقصیر وار ہونے کے اپنے رحم کو کم نہیں کیا ایسا ہی وہ تو بہ کے قبول کرنے کے وقت بھی وہی رحم مد نظر رکھتا ہے اور فضل کی راہ سے انسان کی بضاعت مزجات کو کافی سمجھ کر قبول فرمالیتا ہے۔اس کی اس عادت کو اگر دوسرے لفظوں میں فضل کے ساتھ تعبیر کر دیں اور یہ کہہ دیں کہ نجات فضل سے ہے تو عین مناسب ہے کیونکہ جیسے ایک غریب اور عاجز انسان ایک پھول تحفہ کے طور پر بادشاہ کی خدمت میں لے جاوے اور بادشاہ اپنی عنایات بے غایات سے اور اپنی حیثیت پر نظر کر کے اس کو وہ انعام دے جو پھول کی مقدار سے ہزار ہا بلکہ کروڑہا درجہ بڑھ کر ہے یہ کچھ بعید بات نہیں ہے۔ایسا ہی خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے وہ اپنے فضل کے ساتھ اپنی خدائی کے شان کے موافق ایک گداز لیل حقیر کو قبول کر لیتا ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ دعاوں کا قبول ہونا بھی فضل پر موقوف ہے جس سے بائبل بھری ہوئی ہے۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۲۱، ۲۲۲