مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 632

مسیحی انفاس — Page 189

۱۸۹ تھی وہ سزا اس نے آپ ہی اپنے نفس پر وار د کر لی ہے۔تو پھر اس کو رحم بلا مبادلہ کہنا اگر سخت غلطی نہیں تو اور کیا ہے۔مگر وہ رحم بلا مبادلہ جس کو ڈپٹی صاحب پیش کرتے ہیں کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کوئی پاوے۔حزقیل باب ۱۸ آیت ۱۔پھر حز قیل ۲۰ / ۱۸ پھر سموئیل ۳/ ۲ مکاشفات ۱۲/ ۲۰ حز قیل ۲۷ - ۱۹/۳۰ یہ تو ایک نہایت مکروہ ظلم کی ق ہے۔اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی ظلم نہیں ہو گا۔سوائے اس کے کیا خدا تعالٰی کو یہ کیا خدا تعالی کو یہ طریق طریق معافی گناہوں کا صدہا برس سوچ سوچ کر پیچھے سے یاد آیا۔ظاہر ہے کہ انتظام الہی معافی صدہا برس سوچ سوچ کر یاد آیا؟ جو انسان کی فطرت سے متعلق ہے وہ پہلے ہی ہونا چاہئے۔جب سے انسان دنیا میں آیا فله احب گناہ کی بنیاد اسی وقت سے پڑی۔پھر یہ کیا ہو گیا کہ گناہ تو اسی وقت زہر پھیلانے لگا۔مگر خدا تعالیٰ کو چار ہزار برس گزرنے کے بعد گناہ کا علاج یاد آیا۔نہیں صاحب یہ سراسر بناوٹ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جیسے ابتدا سے انسان کی فطرت میں ایک ملکہ گناہ کرنے کا رکھا۔ایسا ہی گناہ کا علاج بھی اسی طرز سے اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے جیسے کہ وہ خود فرماتا ہے۔بلی من اسلم وجهه بله وهو محسن ره عند ربه ولا خوف عليهم ولا هم بحریوں (کیا ہے) یعنی جو شخص اپنے تمام وجود کو خدا تعالیٰ کی راہ میں سونپ دیوے اور پھر اپنے تئیں نیک کاموں میں لگادیوے تو اس کو ان کا اجر اللہ تعالیٰ سے ملے گا۔اور ایسے لوگ بے خوف اور بے غم ہیں۔اب دیکھئے کہ یہ قاعدہ کہ توبہ کر کے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اپنی زندگی کو اس کی راہ میں وقف کر دینا یہ گناہ کے بخشے جانے کے لئے ایک ایسا صراط مستقیم ہے کہ کسی خاص زمانہ تک محدود نہیں۔جب سے انسان اس مسافر خانہ میں آیا تب سے اس قانون کو اپنے ساتھ لایا۔جیسے اس کی فطرت میں ایک شق یہ موجود ہے کہ گناہ کی طرف رغبت کرتا ہے ایسا ہی یہ دوسراشق بھی موجود ہے کہ گناہ سے نادم ہو کر اپنے اللہ کی راہ میں مرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔زہر بھی اسی میں ہے اور تریاق بھی اسی میں ہے۔یہ نہیں کہ زہر اندر سے نکلے اور تریاق جنگلوں سے تلاش کرتے پھریں۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۹۷ تا ۲۰۰ آپ اپنے پہلے قول پر ضد کر کے فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کسی کی شفاعت سے گناہ ۱۵۷