مسیحی انفاس — Page 186
IAY گناہ کرے تو اسے نکال ڈال کیونکہ کا نا ہو کر زندگی بسر کرنا جہنم میں پڑنے سے تیرے لئے بہتر ہے " پس جب کہ حقوق کے تلف کرنے پر سزائیں مقرر ہیں جن کو مسیح کا کفاره دور نہیں کر سکا تو کفارہ نے کن سزاؤں سے نجات بخشی۔پس حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا عدل بجائے خود ہے اور رحم بجائے خود ہے۔جو لوگ اچھے کام کر کے اپنے تیں رحم کے لائق بناتے ہیں ان پر رحم ہو جاتا ہے اور جو لوگ مار کھائے کے کام کرتے ا اور تم میں کوئی ہیں ان کو مار پڑتی ہے۔پس عدل اور رحم میں کوئی جھگڑا نہیں گویا دو نہریں ہیں جو اپنی اپنی جگہ پر چل رہی ہیں۔ایک نہر دوسرے کی ہر گز مزاحم نہیں ہے دنیا کی سلطنتوں میں بھی یہی دیکھتے ہیں کہ جرائم پیشہ کو سزا ملتی ہے لیکن جو لوگ اچھے کاموں سے گورنمنٹ کو جھگڑا نہیں۔عقل خوش کرتے ہیں وہ مور د انعام و اکرام ہو جاتے ہیں۔یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ خدا تعالی کی اصل صفت رحم ہے اور عدل عقل اور قانون عدل ، عقل اور قانون عطا کرنے کے بعد آتا عطا کرنے بعد پیدا ہوتا ہے اور حقیقت میں وہ بھی ایک رحم ہے جو اور رنگ میں ظاہر ہوتا عنی اور تاکنون شرکا ہے۔جب کسی انسان کو عقل عطا ہوتی ہے اور بذریعہ عقل وہ خدا تعالی کے حدود اور ہے لیکن رحم کے لئے قوانین سے واقف ہوتا ہے۔تب اس حالت میں وہ عدل کے مواخذہ کے نیچے آتا ہے لیکن رحم کے لئے عقل اور قانون کی شرط نہیں۔اور چونکہ خدا تعالیٰ نے رحم کر کے انسانوں کو سب سے زیادہ فضیلت دینی چاہی اس لئے اس نے انسانوں کے لئے عدل کے قواعد اور حدود مرتب کئے سو عدل اور رحم میں تناقض سمجھنا جہالت ہے۔نہیں۔کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۷۲ تا ۷۴ مسیحی صاحبوں کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ مسیح کے زمانہ کے بعد الہام اور وحی پر مہر لگ گئی ہے۔اور اب یہ نعمت آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہے۔اور اب اس کے پانے کی کوئی نومیدی کی وجہ بھائی بھی راہ نہیں اور قیامت تک نومیدی ہے۔اور فیض کا دروازہ بند ہے اور شاید یہی وجہ ی بات کی کی راہ نکال ہوگی کہ نجات پانے کے لئے ایک نئی تجویز نکالی گئی ہے اور ایک نیا نسخہ تجویز کیا گیا ہے۔گئی۔جو تمام جہان کے اصول سے نرالا اور سراسر عقل اور انصاف اور رحم سے مخالف ہے اور وہ یہ ہے کہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تمام جہان کے گناہ اپنے ذمہ لے کر صلیب پر مرنا منظور کیا تا ان کی اس موت سے دوسروں کی رہائی ہو۔اور خدا نے تا اپنے بے گناہ بیٹے کو مارا تا گنہ گاروں کو بچاوے۔لیکن ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس