مسیحی انفاس — Page 187
۱۸۷ قسم کی مظلومانہ موت سے دوسروں کے دل گناہ کی پلید خصلت سے کیونکر صاف اور پاک ہو سکتے ہیں۔اور کیونکر ایک بے گناہ کے قتل ہونے سے دوسروں کو گذشتہ گناہوں کی معافی کی سند مل سکتی ہے۔بلکہ اس طریق میں انصاف اور رحم دونوں کا خون ہے کیونکہ گنہگار کے عوض میں بے گناہ کو پکڑ نا خلاف انصاف ہے اور نیز بیٹے کو اس طرح ناحق سخت دلی سے قتل کرنا خلاف رحم ہے۔اور اس حرکت سے فائدہ خاک نہیں۔اور ابھی ہم لکھ چکے ہیں کہ اصل سبب گناہ کے سیلاب کا قلت معرفت ہے۔کا خوان پس جب تک ایک علت موجود ہے تب تک معلول کی نفی کیونکر ہو سکتی ہے ہمیشہ علت کا جب تک علت موجود وجود معلول کے وجود کو چاہتا ہے۔اب جائے حیرت ہے کہ یہ کیسا فلسفہ ہے کہ گناہ ہے تب تک معلول کی ؟ کرنے کی علت جو قلت معرفت باری تعالیٰ ہے وہ تو سر پر موجود کھڑی ہے مگر معلول اس تھی کیونکر ہو سکتی ہے کا جو ارتکاب گناہ کی حالت ہے وہ معدوم ہو گئی ہے۔تجربہ ہزاروں گواہ پیش کرتا ہے کہ بجزر معرفت کامل کے نہ کسی چیز کی محبت پیدا ہو سکتی ہے اور نہ کسی چیز کا خوف پیدا ہوتا۔اور نہ اس کی قدر دانی ہوتی ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کسی فعل یا ترک فعل کو یا تو خوف کی وجہ سے کرتا ہے اور یا محبت کی وجہ سے۔اور خوف اور محبت دونوں معرفت سے پیدا ہوتی ہیں۔پس جب معرفت نہیں تو نہ خوف ہے اور نہ محبت ہے۔لیکچر لاہور روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۶۳، ۱۶۴ حضرت مسیح بھی گناہ بخشنے کے لئے وصیت فرماتے ہیں کہ تم اپنے گنہگار کی خطا بخشو۔ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جل شانہ کی صفات کے بر خلاف ہے کسی کا گناہ بخشا جائے تو انسان کو ایسی تعلیم کیوں ملتی ہے۔بلکہ حضرت مسیح تو فرماتے ہیں کہ میں تجھے سات مرتبہ تک نہیں کہتا بلکہ ستر کے سات مرتبہ تک یعنی اس اندازہ تک کے گناہوں کو بخشتا چلا جا۔اب دیکھئے کہ جب انسان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ گویا تو بے انتہا مراتب تک اپنے گناہ گاروں کو بلا عوض بخشتا چلا جا۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بلا عوض ہر گز نہ بخشوں گا۔تو پھر یہ تعلیم کیسی ہوئی۔حضرت مسیح نے تو ایک جگہ فرما دیا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے اخلاق کے موافق اپنے اخلاق کرو۔کیونکہ وہ بدوں اور نیکوں پر اپنا سورج چاند چڑہاتا ہے اور ہر ایک خطا کار اور بے خطا کو اپنی رحمتوں کی بارشوں سے متمتع کرتا ہے۔پھر جب یہ 104 رحم بلا مبادله