مسیحی انفاس — Page 183
۱۸۳ المطلعين۔فالحق أن العدل لا يوجد أثره إلا بعد نزول كتاب الله ووعده ووعيده وأحكامه وحدوده وشرائطه۔وإضافة العدل الحقيقي إلى الله تعالى باطل لا أصل لها، لأن العدل لا يتصور إلا بعد تصور الحقوق وتسليم وُجُوبها، وليس لأحد حق على رب العالمين۔ألا ترى أن الله سخر كل حيوان للإنسان، وأباح دماءها لأدنى ضرورته۔فلو كان العدل حقا على الله تعالى لما كان له سبيل لإجراء هذه الأحكام، وإلا فكان من الجائرين۔ولكن الله يفعل ما يشاء في ملكوته ، يعز من يشاء، ويذل من وجوب يشاء ، ويحي من يشاء، ويميت من يشاء ويرفع من يشاء، ويضع من يشاء۔ووجود الحقوق يقتضي خلاف ذلك، بل يجعل يداه مغلولة۔وأنت ترى أن المشاهدة تكذبها۔۔وقد خلق الله مخلوقه على تفاوت المراتب۔۔فبعض مخلوقه أفراس وحمير وبعضه جمال ونوق وكلاب وذياب ونمور۔وجعل لبعض مخلوقه سمعا وبصر، وخلق بعضهم صما وجعل بعضهم عمين۔فلأي حيوان جائے جس کے ارتکاب سے قبل کوئی اندار نہ ہوا ہو اور نہ ہی اس اندار پر وہ مطلع ہوا ہو۔پس حق یہ ہے کہ کتاب اللہ ، وعدہ اور وعید، خدا کے احکام اور حدود اور شرائط نازل ہونے سے قبل عدل کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔نیز خد اتعالیٰ کی طرف عدل منسوب کرنا باطل شی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔کیونکہ عدل کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ پہلے حقوق اور ان کے تسلیم کئے جانے کا تصور موجود نہ ہو۔اور خدا تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا۔کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوان کو انسان کے لئے مسخر کیا ہے اور اس کے خون کو انسان کی ادنی ضرورت کے لئے بھی مباح قرار دیا ہے۔پس اگر عدل خدا پر ایک لازمی حق کے طور پر ہوتا تو خدا قطعاً ایسے احکام جاری نہ فرماتاور نہ وہ ظالم قرار پاتا مگر خدا تعالیٰ تو اپنی ملکوت میں جو چاہتا ہے کرتا ہے۔جسے چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔جسے چاہتا ہے زندہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے مارتا ہے جسے چاہتا ہے اونچا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نیچے گراتا ہے مگر حقوق کے پائے جانے کا تصور اس کے مختلف ہے اور اس کے ہاتھوں کو باندھتا ہے۔اور تو دیکھتا ہے کہ مشاہدہ اس بات کو رد کرتا ہے۔اور خدا نے اپنی مخلوق کو مختلف مراتب پر پیدا کیا ہے چنانچہ اس میں سے بعض گھوڑے اور گدھے ہیں اور بعض اونٹ اونٹنیں، کتنے اور بھیڑیئے اور چیتے ہیں پھر اس نے بعض مخلوق کو کان اور آنکھیں دی ہیں اور بعض کو بہرہ بنایا ہے اور بعض کو اندھا۔پس کون ایسا حیوان ہے کہ جو یہ حق رکھتا ہے کہ اٹھے اور خدا سے