مسیحی انفاس — Page 184
حق أن يقوم ويخاصم ربه أنه لم خلقه كذا ، ولم يخلقه كذا۔نعم كتب الله على نفسه حق العباد بعد إنزال الكتب وتبليغ الوعد والوعيد ، وبشر بجزاء العاملين۔فمن تبع كتابه ونبيه، ونهى النفس عن الهوى، فإن الجنة هي المأوى۔ومن عصى ربه وأحكامه وأبى فسيكون من المعذبين۔فلما كان ملاك الأمر الوعد الوعيد ، لا العدل العتيد الذي كان واجبًا على الله الوحيد، انهدم من هذا الأصول المنيف الممرد الذى بناه النصارى من أوهامهم۔فثبت أن إيجاب العدل الحقيقي على الله تعالى خيال فاسد ومتاع كاسد، لا يقبله إلا من كان من الجاهلين۔ومن هنا نجد أن بناء عقيدة الكفارة على عدل الله بناء فاسد على فاسد۔فتدبر فيه ، فإنه يكفيك لكسر الصليب النصارى إن كنت من المنتظرين۔واسم الصفة في كتاب الله تعالى رحيمية كما قال الله تعالى في كتابه العزيز: وكان بالمؤمنين رحيما۔وقال : والله غفور رحيم۔فهذا الفيضان لا يتوجه إلا إلى المستحق، ولا يطلب إلا عاملاً وهذا هو الفرق بين الرحمانية والرحيمية۔جھگڑے کہ اس نے اسے ایسا کیوں بنایا اور ایسا کیوں نہ بنایا۔البتہ خدا تعالیٰ نے کتاب نازل کرنے اور وعدہ و وعید دینے کے بعد اپنے پر بندوں کے حقوق واجب کئے ہیں اور عمل کرنے والوں کو جزا کی خوش خبری دی ہے پس جو اس کی کتاب اور اس کے نبی کی پیروی کرے گا اور نفس کو ہوا و ہوس سے روکے گا تو اس کا ٹھکانا جنت ہو گا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا اور اس کے احکام کو توڑے گا اور ا نکار کرے گا تو وہ عذاب پانے والوں میں سے ہو گا۔پس جب یہ ثابت ہو گیا کہ اصل بات وعده و وعید پر منحصر ہے نہ کہ عدل پر جو خدائے واحد پر لازم ہو تو اس اصول کے مطابق وہ قلعہ جو نصاری نے اپنے اوہام سے بنا لیا تھا منہدم ہو گیا اور وہ بے فائدہ متاع ہے جسے سوائے جاہلوں کے اور کوئی قبول نہیں کرے گا۔سواس سے یہ بھی پتہ چلا کہ کفارے کے عقیدہ کی خدا کے عدل پر بناء کرنا بناء فاسد علی فاسد ہے۔اس بات پر غور کر کہ یہ بات تجھے نصاری کی صلیب کو توڑنے کے لئے کافی ہے اگر تو مناظرہ کرنے والوں میں سے ہے۔کتاب اللہ میں خدا تعالیٰ کی اس صفت کا نام رحیمیت آیا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ اپنی کتاب عزیز میں فرماتا ہے وكان بالمؤمنين رحيما نيز فرمایا والله غفور رحیم یہ فیضان صرف مستحق کو ملتا ہے اور صرف کام کرنے والا ہی اس کا مطالبہ کر سکتا ہے۔اور رحمانیت اور رحیمیت کے ۱۸۴