مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 632

مسیحی انفاس — Page 165

۱۶۵ سرے سے ایسی تعلیم سے انکار کر دیتے جو ان کی کتابوں میں موجود تھی اور خدا کے پاک نبی اس کو تازہ کرتے آئے تھے۔یہودی اب تک زندہ موجود ہیں اور ان کے فاضل اور عالم بھی موجود ہیں اور ان کی کتابیں بھی موجود ہیں۔اگر کسی کو شک ہو تو ان سے بالمواجہ دریافت کرتے۔کیا ایک عظمند جو در حقیقت سچائی کی تلاش میں ہے وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ یہودیوں کی بھی اس میں گواہی لے۔کیا یہودی وہ پہلے گواہ نہیں ہیں جو صد ہا برسوں سے توریت کی تعلیم کو حفظ کرتے چلے آئے ہیں ؟ ایک عاجز انسان کو خدا بناتالنہ اس پر پہلی تعلیموں کی گواہی نہ ان تعلیموں کے وارثوں کی گواہی نہ پچھلی تعلیم کی گواہی نہ عقل کی گواہی اور اس شخص کو خدا کا بھی کہنا اور پھر شیطان کا بھی۔کیا ان گندی اور نا معقول باتوں کو ماننا پاک فطرت لوگوں کا کام ہے ؟!! سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۳۱ تا ۳۳۶ کیا ہوا؟ ۱۳۷ پھر جب اس عقیدہ کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ باوجودیکہ توریت کی متوارث اور قدیم تعلیم کی مخالفت کی گئی اور ایک کا گناہ دوسرے پر ڈالا گیا اور ایک راست باز کے دل کو لعنتی اور خدا سے دور اور مہجور اور شیطان کا ہم خیال ٹھہرایا گیا۔پھر ان سب خرابیوں کے لعنتی قربانی کو قبول ساتھ اس لعنتی قربانی کو قبول کرنے والوں کے لئے فائدہ کیا ہوا۔کیا وہ گناہ سے باز آگئے کرنے والوں کو فائدہ یا ان کے گناہ بخشے گئے تو اور بھی اس عقیدہ کی لغویت ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ گناہ سے باز آنا اور سچی پاکیزگی حاصل کرنا تو بہداہت خلاف واقعہ ہے۔کیونکہ موجب عقیدہ عیسائیوں کے حضرت داؤد علیہ السّلام بھی کفارہ یسوع پر ایمان لائے تھے۔لیکن بقول ان کے ایمان لانے کے بعد نعوذ باللہ حضرت داؤد نے ایک بے گناہ کو قتل کیا اور اس کی جورو سے زناہ کیا اور نفسانی کاموں میں خلافت کے خزانہ کا مال خرچ کیا اور سوتک جورو کی اور اخیر عمر تک اپنے گناہوں کو تازہ کرتے رہے اور ہر روز کمال گستاخی کے ساتھ گناہ کا ار تکاب کیا۔پس اگر یسوع کی لعنتی قربانی گناہ سے روک سکتی تو بقول ان کے داؤد اس قدر گناہ میں نہ ڈوبتا۔ایسا ہی یسوع کے حواریوں سے بھی ایمان لانے کے بعد قابل شرم گناہ سرزد ہوئے۔یہودا اسکر یوطی نے تیس روپیہ پر یسوع کو بچا اور پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر تین مرتبہ یسوع پر لعنت بھیجی اور باقی سب بھاگ گئے۔اور ظاہر