مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 632

مسیحی انفاس — Page 160

لعنت قتل کر دو۔پس اس آیت میں اس بات کی طرف یہ عجیب اشارہ ہے کہ لعنتی ہمیشہ کے لئے ہدایت سے محروم ہوتا ہے اور اس کی پیدائش ہی ایسی ہوتی ہے جس پر جھوٹ اور بدکاری کا جوش غالب رہتا ہے۔اور اسی بنا پر قتل کرنے کا حکم ہوا۔کیونکہ جو قابل علاج نہیں اور مرض متعدی رکھتا ہے اس کا مرنا بہتر ہے۔اور یہی توریت میں لکھا ہے کہ لعنتی ہلاک ہو گا۔علاوہ اس کے ملعون کے لفظ میں یہ کس قدر پلید معنے مندرج ہیں کہ عربی اور عبرانی زبان کے رو سے ملعون ہونے کی حالت میں ان لوازم کا پایا جانا ضروری ہے کہ کہ شخص ملعون اپنی دلی خواہش سے خدا تعالیٰ سے بیزار ہو۔اور وہ خدا تعالیٰ سے اپنے دلی جوش کے ساتھ دشمنی رکھے اور ایک ذرہ محبت اور تعظیم اللہ جل شانہ کی اس کے دل میں نہ ہو۔اور ایسا ہی خدا کے دل میں بھی ایک ذرہ اس کی محبت نہ ہو یہاں تک کہ وہ شیطان کا وارث ہو نہ خدا کا۔اور یہ بھی لعنتی ہونے کے لوازم میں سے ہے کہ شخص ملعون خدا تعالیٰ کی شناخت اور معرفت اور محبت سے بکلی بے نصیب ہو۔اب ظاہر ہے یہ لہ اور ملعون کی حالت کا مفہوم ایسانا پاک مفہوم ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنی ایماندار کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت اس کو منسوب کیا جائے کیونکہ ملعون ہونے سے مراد وہ سخت دلی کی تاریکی ہے جس میں ایک ذرہ خدا کی معرفت کا نور خدا کی محبت کا نور خدا کی تعظیم کا نور باقی نہ ہو۔پس کیا روا ہے کہ ایسے مردار کی سی حالت ایک سیکنڈ لے لئے بھی مسیح جیسے راست باز کی طرف منسوب کی جائے۔کیا نور اور تاریکی دونوں جمع ہو سکتی ہیں۔لہذا اس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ عیسائی مذہب کے یہ عقائد سراسر باطل ہیں۔نیک دل انسان ایسی نجات سے بیزار ہو گا۔جس کی اول شرط یہی ہو کہ ایک پاک اور معصوم اور خدا کے پیارے کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ ملعون ہو گیا اور اس کا دل عمد ا خدا سے برگشتہ ہو گیا۔اور اس کے سینہ میں سے خداشناسی کانور جاتا رہا اور وہ شیطان کی طرح خدا تعالیٰ کا دشمن ہو گیا۔اور خدا سے بیزار ہو گیا اور شیطان کا وارث ہو گیا اور اس کا سارا دل سیاہ ہو گیا۔اور لعنت کی زہرناک کیفیت سے اس کا دل اور اس کی آنکھیں اور اس کے کان اور اس کی زبان اور اس کے تمام خیالات بھر گئے۔اور اس کی پلید زمین میں بجز لعنتی درختوں کے اور کچھ باقی نہ رہا۔کیا ایسے اصولوں کو کوئی ایماندار اور شریف انسان اپنی نجات کا ذریعہ ٹھر ا سکتا ہے اگر نجات کا یہی ذریعہ ہے تو ہر ایک پاک دل شخص کا کانشنس یہی گواہی دے گا کہ ایسی