مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 632

مسیحی انفاس — Page 153

۱۵۳ اس پر ایمان لا کر گناہ سے باز آگئے۔تو اس جگہ بھی بھی پاکیزگی کاخانہ خالی ہی معلوم ہوتا عمر ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ وہ لوگ سولی ملنے کی خبر کو سن کر ایمان لاچکے تھے۔لیکن پھر بھی اب تک گناہ رک نہ نتیجہ یہ ہوا کہ یسوع کی گرفتاری پر پطرس نے سامنے کھڑے ہو کر اس پر لعنت بھیجی باقی سب بھاگ گئے۔اور کسی کے دل میں اعتقاد کا نور باقی نہ رہا پھر بعد اس کے گناہ سے رکنے کا اب تک یہ حال ہے کہ خاص یورپ کے محققین کے اقراروں سے یہ بات ثابت ہے کہ یورپ میں حرام کاری کا اس قدر زور ہے کہ خاص لنڈن میں ہر سال ہزاروں حرامی بچے پیدا ہوتے ہیں۔اور اس قدر گندے واقعات یورپ کے شائع ہوئے ہیں کہ کہنے اور سننے کے لائق نہیں۔شراب خواری کا اس قدر زور ہے کہ اگر ان دو کانوں کو ایک خط مستقیم میں باہم رکھ دیا جائے تو شاید ایک مسافر کی دو منزل طے کرتے تک بھی وہ دوکانیں ختم نہ ہوں۔عبادات سے فراغت ہے۔اور دن رات سوا عیاشی اور دنیا پرستی کے کام نہیں پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اس پر ایمان لانے والے گناہ سے رک نہیں سکے۔بلکہ جیسا کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھار دریا کا پانی اردگرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانے والوں کا حال ہو رہا ہے۔اور میں جانتا ہوں کہ عیسائی لوگ اس پر زیادہ بحث نہیں کریں گے کیونکہ جس حالت میں ان نبیوں کو جن کے پاس خدا کا فرشتہ آتا تھا۔یسوع کا کفارہ بدیوں سے روک نہ سکا۔تو پھر کیونکر تاجروں اور پیشہ وروں اور خشک پادریوں کو ناپاک کاموں سے روک سکتا ہے غرض عیسائیوں کے خدا کی کیفیت یہ ہے جو ھم بیان کر چکے۔معیار المذاہب۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۷۲ تا ۴۸۶ حاشیه سکا۔۱۲۸ اور اگر ہم عیسائیوں کے اس اصول کو لعنت کے مفہوم کے رو سے جانچیں جو سیح کی نسبت تجویز کی گئی ہے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اصول کو قائم کر کے عیسائیوں نے یسوع مسیح کی وہ بے ادبی کی ہے جو دنیا میں کسی قوم نے اپنے رسول یا نبی کی کفارہ کا مہندر لعنت نہیں کی ہوگی۔کیونکہ یسوع کا لعنتی ہو جانا کو وہ تین دن کے لئے ہی سہی عیسائیوں کے عقیدہ میں داخل ہے۔اور اگر یسوع کو لعنتی نہ بنایا جائے تو مسیحی عقیدہ کے رو سے کفارہ اور قربانی وغیرہ سب باطل ہو جاتے ہیں۔گویا اس تمام عقیدہ کا شہتیر لعنت ہی