مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 632

مسیحی انفاس — Page 151

۱۵۱ کشی کتاب کے ورقوں کو جو صرف اس فریب دہی کے لئے آگے دھری ہوتی۔ہے الٹ پلٹ کر یقین دلاتے ہیں کہ در حقیقت پوچھنے والے کا ایک بڑا ہی ستارہ قسمت چمکنے والا غالباً کسی ملک کا بادشاہ ہو جائے گا۔ورنہ وزارت تو کہیں نہیں گئی۔اور یا یہ لوگ جو کسی کو باوجود اس کی دائمی ناپاکیوں کے خدا کا مورد فضل بنانا چاہتے ہیں۔ان کیمیا گروں کی مانند ہیں جو ایک سادہ لوح مگر دولت مند کو دیکھ دیکھ کر طرح طرح کی لاف زنیوں سے شکار کرنا چاہتے ہیں۔اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے پہلے آنے والے کیمیا گروں کی مذمت کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ جھوٹے بد ذات ناحق اچکوں کے طور پر لوگوں کا مال فریب سے کھسکا کر لے جاتے ہیں۔اور پھر آخر بات کو کشاں کشاں اس حد پہنچاتے ہیں کہ صاحبو میں نے اپنے پچاس یا ساٹھ برس کی عمر میں جس کو کیمیا گری کا مدعی یکھا جھوٹ ہی پایا۔ہاں میرے گورو بیکنٹھ باشی سچے رسائی تھے۔کروڑ ہاروپیہ کا دان کر گئے۔مجھے خوش نصیبی سے باراں برس تک ان کی خدمت کا شرف حاصل ہوا اور پھل پایا۔پھل پانے کا نام سن کر ایک جاہل بول اٹھتا ہے کہ بابا جی تب تو آپ نے ضرور رسائن کا نسخہ گوروجی سے سیکھ لیا ہو گا۔یہ بات سن کر بابا جی کچھ ناراض ہو کر تیوری چڑھا کر بولتے ہیں کہ میاں اس بات کا نام نہ لو ہزاروں لوگ جمع ہو جائیں گے۔ہم تو لوگوں سے چھپ کر بھاگتے پھرتے ہیں۔غرض ان چند فقروں سے ہی جاہل دام میں آ جاتے ہیں پھر تو شکار دام افتادہ کو ذبح کرنے کے لئے کوئی بھی دقت باقی نہیں رہتی۔خلوت میں راز کے طور پر سمجھاتے ہیں کہ در حقیقت تمہاری ہی خوش قسمتی ہمیں ہزاروں کوسوں سے کھینچ لائی ہے۔اور اس بات سے ہمیں خود بھی حیرانی ہے کہ کیونکر یہ سخت دل تمہارے لئے نرم ہو گیا۔اب جلدی کرو۔اور گھر سے مانگ کر دس ہزار کا طلائی زیور لے آؤ۔ایک ہی رات میں وہ چند ہو جائے گامگر خبر دار کسی کو میری اطلاع نہ دینا۔کسی اور بہانہ سے مانگ لینا۔قصہ کوتاہ یہ کہ آخر زیور لے کر اپنی راہ لیتے ہیں۔اور وہ دیوانے دو چند کی خواہش کرنے والے اپنی جان کو روتے رہ جاتے ہیں۔یہ اس طمع کی شامت ہوتی ہے جو قانون قدرت سے غفلت کر کے انتہاء تک پہنچائی جاتی ہے۔مگر میں نے سنا ہے کہ ایسے ٹھگوں کو یہ ضرور ہی کہنا پڑتا ہے کہ جس قدر ہم سے پہلے آئے یا بعد میں آدیں گے یقینا سمجھو کہ وہ سب فریبی اور بٹ مار اور ناپاک اور جھوٹے اور اس نسخہ سے بے خبر ہیں۔ایسا ہی عیسائیوں کی پڑی بھی جم نہیں سکتی جب تک کہ حضرت