مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 632

مسیحی انفاس — Page 148

۱۴۸ ۱۳۷ بیٹن۔( قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد ۲۰ ص ۴۴۷، ۴۴۸ ) اخیر عذر یسوع کے دکھ اٹھانے اور مصلوب ہونے کا یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وہ خدا کفارہ کے باد میں جامع ہو کر پھر اس لئے سولی پر کھینچا گیا کہ تا اس کی موت گناہگاروں کے لئے کفارہ ٹھہرے۔لیکن یہ بات بھی عیسائیوں کی ہی ایجاد ہے کہ خدا بھی مرا کر تا ہے۔گومرنے کے بعد پھر اس کو زندہ کر کے عرش پر پہنچا دیا۔اور اس باطل و ہم میں آج تک گرفتار ہیں کہ پھر وہ عدالت کرنے کے لئے دنیا میں آئے گا اور جو جسم مرنے کے بعد اس کو دوبارہ ملاو ہی جسم خدائی کی حیثیت میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گا مگر عیسائیوں کا یہ مجستم خدا جس پر بقول ان کے ایک مرتبہ موت بھی آچکی ہے اور خون گوشت ہڈی اور اوپر نیچے کے سب اعضا رکھتا ہے۔یہ ہندؤں کے ان او تاروں سے مشابہ ہے جن کو آج کل آریہ لوگ بڑے جوش سے چھوڑتے جاتے ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ عیسائیوں کے خدا نے تو صرف ایک مرتبہ مریم بنت یعقوب کے پیٹ سے جنم لیا مگر ہندوں کے خدا بشن نے نو مرتبہ دنیا کے گناہ دور کرنے کے لئے تولد کا داغ اپنے لئے قبول کر لیا۔خصوصا آٹھویں مرتبہ کا جنم لینے کا قصہ نہایت دلچسپ بیان کیا جاتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ جب زمین دمیستوں کی طاقت سے مغلوب ہو گئی۔تو بشن نے آدھی رات کو کنواری لڑکی کے پیٹ سے پیدا ہو کر اوتار لیا۔اور جو پاپ دنیا میں پھیلے ہوئے تھے۔ان سے لوگوں کو چھڑایا۔یہ قصہ اگرچہ عیسائیوں کے مذاق کے موافق ہے۔مگر اس بات میں ہندوؤں نے بہت عقلمندی کی۔کہ عیسائیوں کی طرح اپنے اوتاروں کو سولی نہیں دیا اور نہ ان کے لعنتی ہونے کے قائل ہوئے۔قرآن شریف کے بعض اشارات سے نہایت صفائی کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو خدا بنانے کے موجد پہلے آریہ ورت کے برہمن ہی ہیں کنارہ کا قید ندیوں اور پھر یہی خیالات یونانیوں نے ہندوؤں سے لئے۔آخر اس مکر وہ اعتقاد میں ان دونوں اور یونانیوں کی نقل قوموں کے فضلہ خوار عیسائی بنے۔اور ہندوؤں کو ایک اور بات دور کی سوجھی جو عیسائیوں کو نہیں سوجھی۔اور وہ ہم کہ ہندو لوگ خدائے ازلی ابدی کے قدیم قانون میں یہ بات داخل رکھتے ہیں کہ جب سبھی دنیا گناہ سے بھر گئی تو آخر ان کے پر میشر کو یہی تدبیر خیال میں آئی کہ خود دنیا میں جنم لے کر لوگوں کو نجات دیو ہے۔اور ایسا واقعہ صرف ایک دفعہ نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقتوں میں ہوتا رہا۔لیکن گو عیسائیوں کا یہ تو عقیدہ ہے کہ -