مسیحی انفاس — Page 144
۱۲۴ پانی، آگ کے شعلے اور زمین آسمان کے اجرام سب کے سب سہ گوشہ ہوتے تاکہ ستحکمیت پر گواہی ہوتی۔اور نہ انسانی نور قلب کبھی متثلیث پر گواہی دیتا ہے۔پادریوں سے پوچھا ہے کہ جہاں انجیل نہیں گئی وہاں تثلیث کا سوال ہو گا یا توحید کا۔تو انہوں نے صاف اقرار کیا ہے کہ توحید کا۔بلکہ ڈاکٹر فنڈر نے اپنی تصنیف میں یہ اقرار درج کر دیا ہے۔اب ایسی کھلی شہادت کے ہوتے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ تثلیث کا عقیدہ کیوں پیش کر دیا جاتا ہے۔پھر یہ سیہ گوشہ خدا بھی عجیب ہیں۔ہر ایک کے کام الگ الگ ہیں۔گویا ہر ایک بجائے خود ناقص اور نا تمام ہے اور ایک دوسرے کا متمم ہے۔لملفوظات۔جلد ا صفحه ۳۳۰،۳۲۹ اسلام بہت ہی سیدھا سادہ مذہب ہے۔اس نے تثلیث کی تکذیب کی ہے۔غرض آپ وہ دین لائے جو سیدھا سادہ ہے۔جو خدا کے سامنے یا انسان کے سامنے شرمندہ تثليث لا يحمل عقده نہیں ہو سکتا۔قانون قدرت اور فطرت کے ساتھ ایسا وابستہ ہے کہ ایک جنگلی بھی آسانی ہے۔کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔تثلیث کی طرح کوئی لا نخیل عقدہ اس میں نہیں جس کو نہ خدا سمجھ سکے نہ اور تو ماننے والے جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں۔تثلیث قبول کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے بت پرستی اور اوہام پرستی کرے اور عقل و فکر کی قوتوں کو بالکل بیکار اور معطل چھوڑ دے۔حالانکہ اسلام کی توحید ایسی ہے کہ ایک دنیا سے الگ تھلگ جزیرہ میں بھی وہ سمجھ میں آسکتی ہے۔یہ دین عیسائی جو پیش کرتے ہیں یہ عالمگیر اور مکمل دین نہیں ہو سکتا۔اور نہ انسان اس سے کوئی تسلی یا اطمینان پاسکتا ہے۔مگر اسلام ایک ایسا دین ہے جو کیا باعتبار توحید اور اعمال حسنہ اور کیا تکمیل مسائل، سب سے بڑھ کر ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحه ۸۵