مسیحی انفاس — Page 138
قدیم لیکن اگر ان کو کہا جائے کہ اے بھلے مانسواگر یہی بات ہے تو ابن مریم کی خدائی کو بھی مان نو اور بیچارے عیسائی جو دن رات یہی سیاپا کر رہے ہیں ان کی بھی تو کچھ خاطر رکھو کہ چون آب از سر گذشت چه نیزه چه بالشت تب وہ حضرت مسیح کی اس قدر بد تہذیبی سے تکذیب کرتے ہیں کہ خدائی تو بھلا کون مانے اس غریب کو نبوت سے بھی جواب دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کو سری مہاراج بر ہم مورت رام چندر جی اور کرشن جی گوپال رو در سے کیا نسبت۔وہ تو ایک آدمی تھا جس نے پیغمبری کا جھوٹا دعوی کیا کہاں شری مہاراج کرشن جی اور کہاں عیسی مریم کا پوتر۔اور تعجب ہے کہ اگر عیسائیوں کے پاس ان دونوں مہاتما او تاروں کا ذکر کیا جائے تو وہ بھی ان کی خدائی نہیں مانتے بلکہ بے ادبی سے باتیں کرتے ہیں۔حالانکہ دنیا میں خدائی کی بنیاد ڈالنے والے یہی دونوں بزرگ ہیں اور چھوٹے چھوٹے خداؤں کے مورث اعلیٰ اور ابن مریم وغیرہ تو پیچھے سے نکلے اور ان کی شاخیں ہیں اور عیسائی مسیح کے خدا بنانے میں انہیں لوگوں کے نقش قدم پر چلے ہیں۔جنہوں نے ان مہاتماوں کو خدا بنایا جیسا کہ قرآن کریم اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دیکھو آیت وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصْرَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللهِ ذلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَبْلُ قَتَلَهُمُ اللهُ إِلَى يُؤْفَكُونَ (الجزء نمبر ۱۰) یعنی یہود نے کہا کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے۔یہ سب ان کے منہ کی باتیں ہیں۔یہ لوگ ان لوگوں کی ریس کرتے ہیں جو ان سے پہلے بعض انسانوں کو خدا بنا کر کافر ہو گئے۔خدا کے ماروں نے کہاں سے کہاں پلٹا کھایا۔سو یہ آیت صریح ہندووں اور یونانیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور بتلا رہی ہے جو پہلے انسانوں کو انہیں لوگوں نے خدا قرار دیا۔پھر عیسائیوں کی بد قسمتی سے یہ اصول ان تک پہنچ گئے۔تب انہوں نے کہا کہ ہم ان قوموں سے کیوں پیچھے رہیں اور ان کی بد بختی سے توریت میں پہلے سے یہ محاورہ تھا کہ انسانوں کو بعض مقامات میں خدا کے بیٹے قرار دیا تھا بلکہ خدا کی بیٹیاں بھی بلکہ بعض گذشتہ لوگوں کو خدا بھی کہا گیا تھا۔اس عام محاورہ کے لحاظ سے مسیح پر بھی انجیل میں ایسا ہی لفظ بولا گیا پس وہی لفظ نادانوں کے لئے زہر قاتل ہو گیا۔تمام بائبل دو ہائی دے رہی ہے کہ یہ لفظ ابن مریم سے کچھ خاص نہیں ہر یک نبی اور راست باز پر بولا گیا ہے بلکہ یعقوب ط ۱۳۸