مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 632

مسیحی انفاس — Page 133

۱۳۳ دکھائیں۔برخلاف اس کے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہودیوں نے منجملہ اور اعتراضوں کے جو اس پر کئے۔سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ یہ خدا کا بیٹا اور خدا بنتا ہے۔اور یہ کفر ہے۔اگر یہودیوں نے توریت اور نبیوں کے صحیفوں میں یہ تعلیم پائی تھی کہ دنیا میں خود خدا اور اس کے بیٹے بھی ماریں کھانے کے لئے آیا کرتے ہیں۔اور انہوں نے دس پانچ کو دیکھا تھا تو پھرا نکلر کی وجہ کیا ہو سکتی تھی ؟ اصل حقیقت یہی ہے کہ اس معیار پر یہ عقیدہ کبھی پورا نہیں اتر سکتا اس لئے کہ اس میں حقانیت کی روح نہیں ہے۔ملفوظات۔جلد ۳ صفحہ ۱۱۶ ذکر نہیں۔[112] اس وقت تین قومیں یہود عیسائی اور مسلمان موجود ہیں۔ان میں سے یہود اور مسلمان بالاتفاق توحید پر ایمان لاتے ہیں۔لیکن عیسائی تثلیث کے قائل ہیں۔اب ہم عیسائیوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر واقعی تثلیث کی تعلیم حق تھی۔اور نجات کا یہی اصل ذریعہ تھا تو پھر کیا اندھیر مچا ہوا ہے کہ توریت میں اس تعلیم کا کوئی نشان اس میں نہیں قربت میں تنقلات کا ملتا۔یہودیوں کے اظہار لے کر دیکھ لو۔اس کے سوا ایک اور امر قابل غور ہے۔کہ یہودیوں کے مختلف فرقے ہیں اور بہت سی باتوں میں ان میں باہم اختلاف ہے لیکن توحید کے اقرار میں ذرا بھی اختلاف نہیں۔اگر تثلیث واقعی مدار نجات تھی تو کیا سارے کے سارے فریقے ہی اس کو فراموش کر دیتے۔اور ایک آدھ فرقہ بھی اس پر قائم نہ رہتا۔کیا یہ تعجب خیز امر نہ ہو گا کہ ایک عظیم الشان قوم جس میں ہزاروں ہزار فاضل ہر زمانہ میں موجود رہے۔اور برابر مسیح علیہ السلام کے وقت تک جن میں نبی آتے رہے ان کو ایک ایسی تعلیم سے بالکل بے خبری ہو جاوے جو موسیٰ علیہ السلام کی معرفت انہیں ملی ہو اور مدار نجات بھی وہی ہو۔یہ بالکل خلاف قیاس اور بیہودہ بات ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ خود تراشیدہ عقیدہ ہے۔نبیوں کے صحیفوں میں اس کا کوئی پتہ نہیں اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔کیونکہ یہ حق کے خلاف ہے۔پس یہودیوں میں توحید پر اتفاق ہونا اور تثلیث پر کسی ایک کا بھی قائم نہ ہو نا صریح دلیل اس امر کی ہے کہ یہ باطل ہے۔حالانکہ خود عیسائیوں کے مختلف فرقوں میں بھی متثلیث کے متعلق ہمیشہ سے اختلاف چلا آتا ہے اور یونی ٹیرین فرقہ اب تک موجود ہے۔میں نے ایک یہودی سے دریافت کیا تھا کہ توریت میں کہیں تشکیث کا بھی ذکر ہے۔اور یا تمہارے تعامل میں